ہماری والدہ کو کچھ عرصہ قبل فالج ہوا تھا ، جس کی وجہ سے وہ بستر پر ہیں وہ بعض وقت بات بالکل بھی نہیں مانتی ہیں اور بار بار اٹھنا بیٹھنا کرتی رہتی ہیں، جس کی وجہ سے ان کے ساتھ سختی کرنا پڑتی ہے ، جس کے لیے ہمیں خود بہت افسوس اور ندامت ہوتی ہے ، اور ہم یہ محسوس کرتے ہیں کہ ایسا کر کے ہم اپنے لیے جہنم کا بندوبست کر رہے ہیں ۔ خدارا ہماری رہنمائی فرمائیں!
سائل نے یہ نہیں لکھا کہ انہیں والدہ کے ساتھ کس بات پر سختی کرنے کی ضرورت پڑتی ہے؟ تاکہ اسی کے مطابق جواب دیاجاتا، لیکن اس عمر میں عموما والدین کی طبیعت میں حساسیت پیداہوجاتی ہے، اور خاص طوپر جب ایسی کوئی بیماری لگ جائے جس کی وجہ سے چلنا پھرنا بھی بندہوجائے تو اس کی وجہ سے طبیعت میں مزید چڑچڑاپن آجاتاہے، اور بالکل بچوں والی کیفیت بن جاتی ہے، لیکن ایسی صورت حال میں بھی سائل یا گھرکے کسی اور فرد کے لیے ان کے ساتھ سختی سے پیش آنا ہرگز مناسب نہیں، بلکہ اپنے ان اوقات کو یادر کھنے کی ضرورت ہے، کہ جب بچپن میں ہم اپنے والدین کو اس طرح بیجاتنگ کیاکرتے تھے، تو ان کا ہمارے ساتھ کیا رویہ تھا؟ اس لیے والدہ کی خدمت کو سعادت سمجھ کر اس کے ساتھ بچوں کی طرح پیاراور محبت کے ساتھ پیش آنے کی کوشش کرے، اور اگر ایک آدمی کے لیے مستقل طورپر اس طرح خدمت میں رہنا مشکل ہو تو سائل اور اس کے دیگر بہن بھائی باری باری اس کی ترتیب بنائیں اور گھرکی عورتوں کو بھی سمجھائیں، کہ کبھی اس کے ساتھ سختی سے پیش نہ آئیں ورنہ والدہ کی دل سے بد دعا نکلنے کی صورت میں اس کا ازالہ ممکن نہ ہوگا۔