ایک پڑھا لکھا شخص گھر کے برآمدے کو درس کے لیے مختص کرتا ہے، صبح شام اس میں بچے پڑھتے اور نماز ادا کرتے ہیں اور باقی اوقات میں اس کی بکریاں درسگاہ میں گھومتی اور پیشاب،مینگنیاں کرتی رہتی ہیں اور سپارے کھاتی اور گراتی ہیں، اس بارے میں وہ کسی کی نہیں سنتا اور نہ ہی بکریوں کو باندھتا ہے،شریعت اس بارے میں کیا کہتی ھے؟
صورت مسئولہ میں اگر مذکورجگہ اس صاحب کی ذاتی ملکیت ہو، تو وہ جس طرح چاہے اسے استعمال کرسکتاہے، دوسرے لوگوں کواس پر اعتراض کرنے کا حق نہیں ، تاہم اگر اس جگہ پر کلاس لگانے کے بعد بکریاں وغیرہ آتی ہو، تو وہاں پر قرآن کریم یا سپارے وغیرہ اس طرح رکھناکہ بکریاں اسے زمین پر گرائیں یا اس کے صفحات پھاڑیں، شرعاجائز نہیں، بلکہ قرآن کی کریم بے ادبی ہے، اسی طرح اگر اس جگہ پر بکریوں کی مینگنیاں اور پیشاب وغیرہ موجود ہو، تو اس جگہ کو پاک کیے بغیر وہاں نماز اداکرنا بھی درست نہیں،اس لیے اس صاحب کو چاہیے کہ ان چیزوں کا خیال رکھیں۔
موبائل میں گانے بھرے ہوئے ہوں تو اس میں تلاوت بھروا سکتے ہیں یا نہیں؟
یونیکوڈ قرآن و حدیث کے آداب و احکام 0