ہمارے محلہ میں ایک مسجد ہے ،کچھ عرصہ سے مسجد کی انتظامیہ مسجد کی توسیع کرنا چاہ رہے ہیں، مسجد کے سامنے جو پبلک روڈ ہے، وہ اس پر مسجد کی توسیع کرکے روڈ کو بند کرنا چاہتے ہیں، جس کی وجہ سے بہت سے لوگوں کو آنے جانے کا مسئلہ ہوگا، کیونکہ نزدیک کوئی اور متبادل بھی نہیں اور مسجد کی انتظامیہ بھی اس کا کوئی متبادل انتظام نہیں کر رہی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ متأثرین دوسرے راستے کو اختیا رکریں، جو کہ طویل ہے اور اس سے لوگوں کو بہت تکلیف ہے اور لوگ اس پر راضی بھی نہیں ہیں، قرآن و سنت کی روشنی میں بتائیں کہ مسجدِ انتظامیہ کا یہ اقدام ٹھیک ہے؟
واضح ہوکہ عام راستہ کسی شخص کی ذاتی ملکیت نہیں،بلکہ یہ عام لوگوں کا حق ہے، لہذا سوال میں ذکر کردہ بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی برحقیقت ہو،اس میں کسی قسم کی غلط بیانی اور دروغ گوئی سے کام نہ لیا گیا ہو تو مذکور مسجد انتظامیہ کا یہ عمل جو لوگوں کے لئے تکلیف کا باعث ہے،شرعاً جائز نہیں،بلکہ اس کی وجہ سے وہ گناہ گار ہوں گے،لہذا مسجد انتظامیہ پر لازم ہے کہ عام راستہ کو مسجد میں شامل کرنے سے اجتناب کریں،تاہم مسجد اگر تنگ پڑ رہی ہو تو اوپر دو تین منزل بنا کر اس ضرورت کو پورا کیا جاسکتا ہے، لیکن شاہراہِ عام کو متعلقہ ادارہ کی اجازت کے بغیر مسجد میں شامل کرنا درست نہیں،اس سے بہر صورت احتراز لازم ہے۔
کمافی الشامیة:(قوله: كما جاز إلخ) قال في الشرنبلالية فيه نوع استدراك بما تقدم، إلا أن يقال ذاك في اتخاذ بعض الطريق مسجدا، وهذا في اتخاذ جميعها ولا بد من تقييده بما إذا لم يضر كما تقدم ولا شك أن الضرر ظاهر في اتخاذ جميع الطرق مسجدا لإبطال حق العامة من المرور المعتاد لدوابهم وغيرها اھ(4/378)۔
وفی الھندیة: قوم بنوا مسجدا واحتاجوا إلى مكان ليتسع المسجد وأخذوا من الطريق وأدخلوه في المسجد إن كان يضر بأصحاب الطريق لا يجوز اھ(2/456)۔
مساجد میں درسِ قرآن اور فضائلِ اعمال کی تعلیم کے سلسلے میں اختلافات پر شرعی رہنمائی
یونیکوڈ حقوق مسجد 2عارضی مسجد (جائے نماز) کو شہید کرکے وہاں نئی مسجد کی آمدن کے لئے دکانیں بنانا جائز ہے؟
یونیکوڈ حقوق مسجد 3ضرورتمندوں کو اپنی ضروریات کیلئے اور مدرسہ والوں کا طلباء کے لئے مسجد میں چندہ مانگنا
یونیکوڈ حقوق مسجد 0