کیا لڑکی سے پوچھے بغیر اور رضا کے بغیر نکاح ہو سکتا ہے؟ اور ساتھ میں وہ اپنی نکاح سے باخبر بھی نہ ہو۔
واضح ہو کہ لڑکی اگر عاقلہ بالغہ ہو تو نکاح درست منعقد ہونے کیلئے اس کی رضا مندی ضر وری ہے ، اس کی اجازت و رضامندی کے بغیر نکاح درست اور معتبر نہیں ہو گا، لہذا اگر اس کی اجازت کے بغیر کسی جگہ اس کا نکاح کر دیا گیا، تووہ نکاح لڑکی کی اجازت پر موقوف رہےگا، چنانچہ اگر لڑ کی اجازت دےدے، تو وہ نکاح درست ہوگا، ورنہ وہ نکاح کا لعدم سمجھا جائے گا۔
کما في صحيح البخاري: عن أبي سلمة، أن أبا هريرة، حدثهم: أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «لا تنكح الأيم حتى تستأمر، ولا تنكح البكر حتى تستأذن» قالوا: يا رسول الله، وكيف إذنها؟ قال: «أن تسكت»۔الحدیث (7/ 17)
وفي الهداية: وينعقد نكاح الحرة العاقلة البالغة برضاها وإن لم يعقد عليها ولى بكرا كانت أو ثيبا عند أبي حنيفة وأبي يوسف رحمهما الله في ظاهر الرواية وعن أبي يوسف رحمه الله أنه لا ينعقد إلا بولي وعند محمد ينعقد موقوفا۔اھ (1/ 191)