نکاح

کیا عاقلہ بالغہ لڑکی کی رضامندی کے بغیر اسکا نکاح کروانا درست ہے؟

فتوی نمبر :
49371
| تاریخ :
معاملات / احکام نکاح / نکاح

کیا عاقلہ بالغہ لڑکی کی رضامندی کے بغیر اسکا نکاح کروانا درست ہے؟

کیا لڑکی سے پوچھے بغیر اور رضا کے بغیر نکاح ہو سکتا ہے؟ اور ساتھ میں وہ اپنی نکاح سے باخبر بھی نہ ہو۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ لڑکی اگر عاقلہ بالغہ ہو تو نکاح درست منعقد ہونے کیلئے اس کی رضا مندی ضر وری ہے ، اس کی اجازت و رضامندی کے بغیر نکاح درست اور معتبر نہیں ہو گا، لہذا اگر اس کی اجازت کے بغیر کسی جگہ اس کا نکاح کر دیا گیا، تووہ نکاح لڑکی کی اجازت پر موقوف رہےگا، چنانچہ اگر لڑ کی اجازت دےدے، تو وہ نکاح درست ہوگا، ورنہ وہ نکاح کا لعدم سمجھا جائے گا۔

مأخَذُ الفَتوی

کما في صحيح البخاري: عن أبي سلمة، أن أبا هريرة، حدثهم: أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «لا تنكح الأيم حتى تستأمر، ولا تنكح البكر حتى تستأذن» قالوا: يا رسول الله، وكيف إذنها؟ قال: «أن تسكت»۔الحدیث (7/ 17)
وفي الهداية: وينعقد نكاح الحرة العاقلة البالغة برضاها وإن لم يعقد عليها ولى بكرا كانت أو ثيبا عند أبي حنيفة وأبي يوسف رحمهما الله في ظاهر الرواية وعن أبي يوسف رحمه الله أنه لا ينعقد إلا بولي وعند محمد ينعقد موقوفا۔اھ (1/ 191)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 49371کی تصدیق کریں
0     645
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات