اکثر شوہر کے ہاتھ لگانے یا ان کے ساتھ بیٹھنے ، لیٹنے سے اسی وقت یا اس کے بعد بھی جو اگر پانی کی شکایت ہو یا اس وقت کچھ بھی نہ ہو ، بعد میں پانی آجائے تو کیا غسل واجب ہوجائے گا؟ جبکہ مجھے لیکوریا کا مسئلہ بھی رہتا ہے ، میں اسی کشمکش میں رہتی ہوں کہ ایک قطرہ بھی پانی آگیا ہے تو غسل واجب ہے ، اب نماز نہیں ہوگی ، براہِ مہربانی حکمِ شرعی سے آگاہ فرمائیں۔
شوہر کے ساتھ ملاعبت کے دوران نکلنے والے پانی سے غسل واجب نہیں ہوتا ، البتہ وضو ٹوٹ جاتا ہے اور جس جگہ کپڑے یا جسم پہ پانی لگ جائے تو اس کا دھونا لازم ہوجاتا ہے ۔
کما فی الدر المختار : (و فرض) الغسل (عند) خروج (مني) من العضو و إلا فلا يفرض اتفاقا ؛ لأنه في حكم الباطن (منفصل عن مقره) هو صلب الرجل و ترائب المرأة اھ (1/159)۔
و فیه ایضاً : (لا) يفترض (إن تذكر و لو مع اللذة) و الإنزال (و لم ير) على رأس الذكر (بللا) إجماعا اھ (1/164)۔