السلام علیکم میں اپنے دماغ کے سنگین مسائل سے دوچار ہوں اور اس لۓ ڈاکٹر نے مجھے بہت تیز دوائیں دی ہیں ، میں با قاعدگی سے نماز پڑھتی ہوں لیکن اس سے میری نماز متاثر ہو رہی ہے ، جیسا کہ جب بھی میں دوائیں لیتی ہوں تو یہ اندام نہانی سے ماده نکلنے کا سبب بن جاتی ہیں ، میں دن میں تین بار دوائی لیتی ہوں اور تین بار پانی نکلتا ہے، اب مجھے کیا کرنا چاہیۓ ؟ کیا میں نماز پڑھنا چھوڑ سکتی ہوں یا ( نماز ) جاری رکھوں ، ناپاک جگہ اور کپڑوں کو صاف کرنے کے ساتھ ؟ اور میں دن میں تین بار غسل نہیں کر سکتی ، براہِ کرم ان مسائل کو حل کرنے میں میری مدد کریں۔ جزاک اللہ
صورتِ مسئولہ میں آگے کی راہ سے نکلنے والا لیس دار مادہ اگر منی نہ ہو یا منی ہو ، لیکن بغیر شہوت کے نکلے تو اس سے سائلہ پرغسل لازم نہ ہو گا ، البتہ اس سے وضو ٹوٹ جائیگا ، لہذا متعلقہ مقام اور کپڑوں کو دھونے اور وضو کرنے کے بعد سائلہ کیلۓ نماز پڑھنا جائز اور درست ہو گا۔
كما في الدر المختار و حاشية ابن عابدين : (و فرض) الغسل (عند) خروج (مني) من العضو (بشهوة) أي لذة و لو حكما كمحتلم ، و لم يذكر الدفق ليشمل مني المرأة ؛ لأن الدفق فيه غير ظاهر . اهـ (رد المحتار ، ج:1 ، ص: 159)۔
و في الفتاوى الهندية : (الفصل الخامس في نواقض الوضوء) منها ما يخرج من السبيلين من البول و الغائط و الریح الخارجة من الدبر و الودي و المذي و المني و الدودة و الحصاة الغائط يوجب الوضوء قل أو كثر و كذلك البول و الریح الخارجة من الدبر كذا في المحيط اهـ (ج:1 ، ص: 9)۔
و فيه ايضا : (الفصل الثالث في المعاني الموجبة للغسل و هي ثلاثة منها الجنابة و هي تثبت بسببين أحدهما خروج المني على وجه الدفق و الشهوة . اهـ (14/1)۔