بیوی کے ساتھ مباشرت کرنے، ساتھ سونے یا شہوت کی وجہ سے اکثر لیس دار مواد نکلتار ہتا اور بہتا ہے ، یہ کبھی کبھار بہت دیر تک جاری رہتا ہے:
۱۔ حتی کہ غسل اور وضو کے بعد بھی جاری رہتا ہے ، اب ایسی صورت میں کیسے پاکی قائم رکھی جائے ؟
۲۔ اس صورت حال میں کیے جانے والے غسل اور وضو کے بارے میں کیا حکم ہے ؟
۳۔ ایسے میں نماز کیسے قائم کی جائے ؟
مباشرت ( ہمبستری) کے بعد جب تک یہ مادہ رکتا ہے ، اس وقت تک غسل میں انتظار کرے ، جب بند ہو تو غسل کرے ، اور اگر محض ساتھ سونے یا شہوت کے ساتھ چھونے سے یہ لیس دار مادہ نکلتا ہو ، تو یہ منی نہیں بلکہ مذی ہے اور اس سے غسل واجب نہیں ہوتا البتہ وضو کرنالازم ہے۔
كما في رد المحتار : و كذا لوخرج بقية المنى بعد الغسل قبل المشى الكثير (نهر ) اى لا بعده لان النوم و البول و المشى يقطع مادة الزائل عن مكانه بشهوة فيكون الثاني زائلا عن مكانه بلا شهوة فلايجب الغسل اتفاقا اهـ (ج:۱ ص: ۳۲۷)۔
و فى الدر المختار : لاعند مذى او منى بل الوضوء منه اهـ .
وفي رد المختار: تحت قوله (لاعند مذى الخ )اى لا يفرض الغسل عند خروج مذى (الى قوله) ماء رقيق يخرج عند الشهوة لا بها (ج ۱، ص ۳۳۵)۔