السلام علیکم!
جناب میری شادی کو سات سال ہو گئے ہیں اور اولاد نہیں ہے، بیوی کو شادی سے پہلے ماہواری کا مسئلہ تھا، ڈاکٹری علاج کرائے اولاد کیلئے اور ڈاکٹر کہتے ہیں کہ آپ کی اولاد کا ہونا نا ممکن نہیں ہے ، مجھے بھی اللہ پر بہت بھروسہ ہے، مسئلہ یہ ہے کہ گھر والے بالخصوص والدین میری دوسری شادی کا پرزور اظہار کر رہے ہیں اور گھریلو مسائل کی وجہ سے بیوی کو اسکے گھر بھیج دیا ہے، میں دوسری شادی کے حق میں نہیں ہوں ,تو کیا یہ والدین کی نافرمانی کے ضمن میں تونہیں آئے گا؟ رہنمائی فرمائیں کہ میں کیا کروں ؟ جزاک اللہ
سائل اگر دوسری شادی کی استطاعت رکھتا ہو، اور نان ونفقہ اور دونوں بیویوں میں برابری بھی کر سکتا ہو اور دوسری شادی کرنے کی وجہ سے سائل کو کوئی بڑی پریشانی بھی در پیش نہ ہو تو ایسی صورت میں سائل کو والدین کی خواہش کے مطابق دوسری شادی کر لینی چاہیئے ، البتہ اگر سائل مذکور چیزوں میں سے کسی ایک پر بھی قادر نہ ہو تو سائل کا دوسری شادی نہ کرنا والدین کی نافرمانی کے زمرے میں نہیں آتا، اس صورت میں اگر سائل دوسری شادی نہ کرے تو وہ والدین کا نافرمان شمار نہ ہو گا، اور مذکور صورت میں والدین کو بھی سائل سے دوسری شادی کی خواہش کرنے سے احتراز کرنا چاہیئے۔
کما في سنن النسائي: عن معقل بن يسار، قال: جاء رجل إلى رسول الله ﷺ فقال: إني أصبت امرأة ذات حسب ومنصب، إلا أنها لا تلد، أفأتزوجها؟ فنهاه، ثم أتاه الثانية، فنهاه، ثم أتاه الثالثة، فنهاه، فقال: تزوجوا الولود الودود، فإني مكاثر بكم ۔الحديث (6/65)