55سال کی عمر میں ایک عورت بد سلوکی کرنے والے شوہر سے علیحد گی چاہتی ہے اور اس سے پہلے وہ جاننا چاہتی ہے کہ جب اس کے پاس کوئی فینانس نہیں ہے تو اسے ہر چیز سے دستبردار ہونا پڑتا ہے ، اس کے شوہر نے اسے کبھی کام کرنے نہیں دیا اور نہ ہی پیسے دیے جبکہ اس نے بڑی جائیدادیں بنائیں ، کیا وہ اس کی خدمت کے لیے پیسے مانگ سکتی ہے کیونکہ اس نے دن رات کام کیا اوراس کے لیے دن رات کام کیا اور اب جب وہ بوڑھی اور بیمار ہو چکی ہے ، اپنے لیے کچھ بھی کرنے سے قاصر ہے اور اب زیادتی برداشت نہیں کر سکتی تو کیا اسے سڑکوں پر چھوڑ دیا جائے گا یا اس کے پاس کوئی حقوق ہیں ؟
مذکور خاتون کو چاہئے کہ اپنے شوہر سے طلاق لے کر علیحد گی اختیار کرنے کے بجائے از خود یا خاندان کے بڑوں کے ذریعےشوہر کوسمجھا کر بد سلوکی سے باز رکھنے کی کوشش کرے، تاہم اگر کسی طرح دونوں میں نبا ہ کی کوئی صورت ممکن نہ ہو ، اور مذکور خاتون شوہر سے طلاق لیکر علیحدگی اختیار کرلے تو وہ فقط حق مہر اور عدت کے ایام میں نان و نفقہ کی حقدار ہو گی، اس کے علاوہ شوہر کی جائیدادمیں شرعاً اسکا کوئی حق نہ ہوگا، البتہ اگر وہ اپنے شوہر سے جائیداد وغیرہ کسی چیز کا مطالبہ کر دے، اور شوہر اپنی رضامندی سے وہ اسےحوالے کر دے، تو شرعاً اس میں بھی کوئی قباحت نہیں۔
كما في مرقاة المفاتيح : عن ثوبان قال: قال رسول الله - صلى الله عليه وسلم -: «أيما امرأة سألت زوجها طلاقا في غير ما بأس فحرام عليها رائحة الجنة» . رواه أحمد والترمذي وأبو داود وابن ماجه والدارمي.اھ(5/2136)
وفی الدرالمختار: وشرعا: (هي الطعام والكسوة والسكنى) وعرفا هي: الطعام (ونفقة الغير تجب على الغير بأسباب ثلاثة: زوجية، وقرابة، وملك) بدأ بالأول لمناسبة ما مر أو؛ لأنها أصل الولد (فتجب للزوجة) بنكاح صحيح الخ (3/572)۔