میرا تیرہ سال پہلے نکاح ہوا ہے، اس نکاح میں میرے گھر اورمیرے سسرال والوں کے گھر والوں میں سے کوئی فرد شامل نہیں تھا، اب مجھے معلوم ہوا کہ اس طرح کا نکاح صحیح نہیں ہوتا، میرے تین بچے ہیں، میں بہت پریشان ہوں، میں نے اللہ تعالیٰ سے بہت تو بہ کی ہے، برائے مہربانی آپ بتلائیں کہ میں کیا کروں ؟
نوٹ : سائلہ نے فون پر یہ وضاحت کی ہے کہ ان کا نکاح مسجد کے پیش امام نے باقاعدہ حق مہر کے ساتھ چار گواہوں کی موجودگی میں کرایا ہے، لیکن وہ گواہ ہم میاں بیوی کے خاندان میں سے نہیں تھے ۔
سائلہ کا نکاح اگر با قاعده ایجاب و قبول کے ساتھ گواہوں کی موجودگی میں کفؤ کے اندر ہوا ہو تو یہ نکاح شرعاً بھی درست منعقد ہو چکا ہے، سائلہ اور اسکے شوہر کا میاں بیوی کی طرح زندگی گزارنا بھی درست ہے، مگر جوان لڑکا لڑکی کا خود سے نکاح کرنا پھر نکاح جیسے حساس معاملہ میں اپنے والدین اور اولیاء کو شامل نہ کرنا بڑی جسارت اور بے حیائی پر مبنی عمل ہے، شریف خاندانوں میں اس طرح کے عمل کو سخت معیوب شمار کیا جاتا ہے، ایسا نکاح عموماً والدین اور بزرگوں کی دعاؤں سے خالی ہونے کی وجہ سے طلاق اور علیحدگی پر منتج ہوتا ہے، لہذا سائلہ کے والدین اگر راضی نہ ہوں تو ان کو راضی کر کے اپنی زندگی گزارنے کی کوشش کرنے کی فکر کرنی چاہیئے ۔
کما في الفتاویٰ الهندية: وإن كانت حاضرة متنقبة ولا يعرفها الشهود؛ جاز النكاح وهو الصحيح وإن أراد الاحتياط يكشف وجهها حتى يراها الشهود أو يذكر اسمها واسم أبيها وجدها ولو كان الشهود يعرفونها وهي غائبة فذكر الزوج اسمها لا غير وعرف الشهود أنه أراد به المرأة التي يعرفونها جاز النكاح ، كذا في محيط السرخسي۔اھ (1/268)