میں طلاق کے ذریعے جانا چاہتی ہوں جبکہ میرے شوہر اسے خلع بنانا چاہتے ہیں تاکہ حق مہرلے لیں، اگر اس میں بچہ شامل نہ ہوتا تو میں اسے واپس دے دیتی، کیا آپ میری مدد کر سکتے ہیں، میں چاہتی ہوں کہ حق مہر میں اپنے بچے کے لئے رکھوں۔
سائلہ کا شوہر اگر سائلہ سے حق مہر معاف کرائے بغیر اسے طلاق دیدے تو ایسی صورت میں سائلہ کے ذمہ اپنے شوہر کو حق مہر واپس کرنا لازم نہ ہوگا , البتہ اگروہ حق مہر کی واپسی کی شرط پر سائلہ کو طلاق یا خلع دیدے تو ایسی صورت میں سائلہ کے ذمہ حق مہر کی واپسی لازم ہو گی،اور اگر جدائی اور علیحدگی میں قصور شوہر کا ہو تو اس کے لئے حق مہر واپس لینا مکروہ ہوگا، جس سے اسکو اجتناب کرنا چاہئیے ، جبکہ بچے کے سمجھدار ہونے اور کام کاج کےقابل ہونے تک اسکی کفالت پر آنے والے اخراجات بہرصورت سائلہ کے شوہر کے ذمہ لازم ہونگے۔
کما في الهندية: إذا تشاق الزوجان وخافا أن لا يقيما حدود الله فلا بأس بأن تفتدي نفسها منه بمال يخلعها به فإذا فعلا ذلك وقعت تطليقة بائنة ولزمها المال كذا في الهداية.إن كان النشوز من قبل الزوج فلا يحل له أخذ شيء من العوض على الخلع وهذا حكم الديانة فإن أخذ جاز ذلك في الحكم ولزم حتى لا تملك استرداده كذا في البدائع اھ (1/488)
وفیھا ایضاً: نفقة الأولاد الصغار على الأب لا يشاركه فيها أحد كذا في الجوهرة النيرة اھ(1/288)