نکاح

کیا مطلقہ ممانی کے ساتھ نکاح کرنا جائز ہے؟

فتوی نمبر :
45793
| تاریخ :
معاملات / احکام نکاح / نکاح

کیا مطلقہ ممانی کے ساتھ نکاح کرنا جائز ہے؟

کیا ایک بھانجے کا اپنی سگی ممانی کے ساتھ نکاح جائز ہے ؟اور اگر ماموں اس کو طلاق دے دیں، کیا پھر جائز ہے ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ ممانی چونکہ محرمات میں سے نہیں ہے، اس لئے اگر ماموں اپنی بیوی کو طلاق دے کر الگ کر دے اور اسکی عدت بھی مکمل ہو جائے تو اس کے بعد ممانی سے شرعاً نکاح جائز ہے، بشر طیکہ حرمت کی کوئی اور وجہ نہ پائی جاتی ہو۔

مأخَذُ الفَتوی

کما قال الله تعالى: {حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ وَبَنَاتُكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ وَعَمَّاتُكُمْ وَخَالَاتُكُمْ وَبَنَاتُ الْأَخِ وَبَنَاتُ الْأُخْتِ وَأُمَّهَاتُكُمُ اللَّاتِي أَرْضَعْنَكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ مِنَ الرَّضَاعَةِ وَأُمَّهَاتُ نِسَائِكُمْ وَرَبَائِبُكُمُ اللَّاتِي فِي حُجُورِكُمْ مِنْ نِسَائِكُمُ اللَّاتِي دَخَلْتُمْ بِهِنَّ فَإِنْ لَمْ تَكُونُوا دَخَلْتُمْ بِهِنَّ}۔الآیة [النساء: 23]
وفي الدر المختار: فصل في المحرمات، أسباب التحريم أنواع: قرابة، مصاهرة، رضاع، جمع، ملك، شرك، إدخال أمة على حرة، فهي سبعة: ذكرها المصنف بهذا الترتيب وبقي التطليق ثلاثا، وتعلق حق الغير بنكاح أو عدة ذكرهما في الرجعة۔اھ (3/28)
وفي الفتاوىٰ الهندية: [الباب الثالث في بيان المحرمات وهي تسعة أقسام]
[القسم الأول المحرمات بالنسب]
(الباب الثالث في بيان المحرمات) وهي تسعة أقسام (القسم الأول المحرمات بالنسب)، (الی قوله) (القسم الثاني المحرمات بالصهرية)، (الی قوله) (القسم الثالث المحرمات بالرضاع)، (الی قوله) (القسم الرابع المحرمات بالجمع)، (الی قوله) (القسم الخامس الإماء المنكوحة على الحرة أو معها)، (الی قوله) (القسم السادس المحرمات التي يتعلق بها حق الغير)، (الی قوله) (القسم السابع المحرمات بالشرك)، (الی قوله) (القسم الثامن المحرمات بالملك)، (الی قوله) (القسم التاسع المحرمات بالطلقات)۔اھ (1/273)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 45793کی تصدیق کریں
0     848
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات