مجھے مندرجہ ذیل سوالات کے بارے میں تفصیل سے جوابات درکار ہیں :
(1) دعاءِ قنوت کا حوالہ بھیج دیں، میرے ایک دوست نے مجھ سے معلوم کیا تھا، مجھے اس کا علم نہیں ہے ، اگر ممکن ہو تو حدیث کے حوالہ کے ساتھ جواب دے دیں۔
(2) میرا ایک دوست حج پر جارہا ہے، وہاں پر قربانی حج کا ایک رکن ہے ، کیا اسکو وہاں اور یہاں علیحد ہ سے قربانی کرنی ہو گی یا ایک ہی قربانی کافی ہے ؟ بڑوں سے سنا ہے کہ ذی الحجہ سے لے کر ذبح تک ناخن، بال وغیرہ نہیں کاٹنے چاہیئے ، کیایہ صرف حاجیوں کے لیے ہے یا جو لوگ قربانی کر رہے ہیں ان کے لیے بھی ؟
(1)دعاءِ قنوت کا ثبوت مندرجہ ذیل مختلف احادیث مبارکہ سے بخوبی معلوم ہو رہا ہے۔ (۱) کنز العمال (ج ۸ ص ۳۷) (۲) مصنف عبد الرزاق (ج ۳ ص : ۱۱۰) (۳) مصنف لابن ابی شیبة (ج : ۴ ص: ۵۱۸ )۔
(2)حاجی پر اصلاً دمِ قرآن اور دم ِتمتع لازم ہے، البتہ کوئی حاجی اگر پندرہ دن یا اس سے زائد مدت کے لیے مکہ مکرمہ میں مقیم ہو گیا ہو، اور وہ صاحبِ نصاب بھی ہو، تو اس پر عید الاضحیٰ والی قربانی بھی لازم ہو گی ورنہ نہیں، جبکہ یکم ذی الحجہ سے قربانی تک ناخن نہ کاٹنے کا حکم حاجی کے ساتھ مخصوص نہیں، بلکہ قربانی کرنے والے کے لیے بھی اس کا استحباب ہے۔