کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ سحری کے بعد سونے کی حالت میں ایسا محسوس ہوا کہ احتلام ہوا ہے ، لیکن کوئی خواب نہیں دیکھا اور نہ ہی منی کا خروج ہوا ، کسی قسم کا داغ کپڑوں پر نہ تھا ، مگر شہوت تھی اور لذت بھی محسوس ہوئی ، تو کیا مجھ پر غسل فرض ہوگیا یا نہیں؟
فقط خواب دیکھنے اور لذت محسوس کرنے سے غسل واجب نہیں ہوتا ، جب تک کہ منی کا خروج نہ ہو جائے ، چنانچہ سائل کو بھی اگر انزال نہ ہوا ہو تو اس پر غسل لازم نہیں ہوا۔
کما فی الدر المختار : (و فرض) الغسل (عند) خروج (مني) من العضو و إلا فلا يفرض اتفاقا ؛ لأنه في حكم الباطن (منفصل عن مقره) هو صلب الرجل و ترائب المرأة اھ (1/159)۔
و فیه ایضاً : (لا) يفترض (إن تذكر و لو مع اللذة) و الإنزال (و لم ير) على رأس الذكر (بللا) إجماعا اھ (1/164)۔