میری بیوی نے عدالت سے یکطرفہ خلع لیا، اور عدالت نے ڈگری جاری کردی ، جبکہ میں نے خلع کی اجازت نہیں دی ،اور نہ طلاق کی اجازت دی ،الزامات یہ ہیں کہ میں نے بولا کہ خوبصورت نہیں ہو،اور بہن کمرے میں آجاتی اور سو جاتی ہے ،بہن اور ماں کو چھوڑ دو،یہ بات بھی واضح کرنا چاہتاہوں کہ ہم دونوں میاں بیوی گورنمنٹ نوکری کرتے ہیں ،اور میں پانچ ھزار خرچہ بھی دیتا تھا ،حقوق زوجیت بھی پورے کئے ،لیکن سسرال کے ساتھ اچھے تعلقات نہ تھے،تو کیا اب اس ساری صورتحالی میں ہمارا رشتہ ختم ہوگیا ،اب کیا وہ آگے نکاح کرسکتی ہے ؟اس کا باپ آگے شادی کرنا چاہ رہا ہے ،جبکہ میں واپس لانے کیلئے منتیں کررہا ہوں۔
واضح ہو کہ خلع بھی دیگر عقود مالیہ کی طرح ایک عقد ہے ، جس کی صحت کے لئے فریقین کی باہمی رضامندی اور با قاعدہ ایجاب و قبول شرط ہے ، جبکہ عدالتی یک طرفہ خلع میں عموماً یہ شرط مفقود ہونے کی وجہ سے ایسی ڈگری شرعا معتبر نہیں ہوتی، بلکہ اس ڈگری کے جاری ہو جانے کے باوجود نکاح بدستور قائم رہتا ہے لہذا صورت مسئولہ میں مذ کور عدالتی خلع اگر سائل کی رضا مندی کے بغیر ہوا ہے تو عدالتی یک طرفہ خلع کی ڈگری جاری ہونے کے باوجود سائل اور اسکی بیوی کے مابین نکاح شرعاً ختم نہیں ہوا، اور ایسی ڈگری کو بنیاد بنا کر اس کا کسی دوسرے مرد سے نکاح کرنا بھی جائز نہیں، بلکہ دونوں اب بھی میاں بیوی کی طرح زندگی بسر کر سکتے ہیں۔
كمافی احكام القرآن للجصاص : قال أصحابنا إنهما لا يجوز خلعهما إلا برضى الزوجين فقال أصحابنا ليس للحكمين أن يفرقا إلا برضى الزوجين لأن الحاكم لا يملك ذلك فكيف يملكه الحكمان وإنما الحكمان وكيلان لهما أحدهما وكيل المرأة والآخر وكيل الزوج في الخلع( الى قوله) وكيف يجوز للحكمين أن يخلعا بغير رضاه ويخرجا المال عن ملكها اھ (ج 3 ص (153) .
وفي الدر المختار وأما ركنه فهو كما في البدائع: إذا كان بعوض الإيجاب والقبول لأنه عقد على الطلاق بعوض، فلا تقع الفرقة، ولا يستحق العوض بدون القبول اه ( ج 3 ص (441)۔
وفي البدائع : وأما ركنه فهو الإيجاب والقبول لأنه عقد على الطلاق بعوض فلا تقع الفرقة، ولا يستحق العوض بدون القبول (ج 3 ص 145) - والله اعلم بالصواب