السلام علیکم! ایک کمپنی ہے جو پہلے ’’بٹ رپٹون‘‘ کے نام سے کام کر رہی تھی (www_bitirypton.com) اور اب اس نے اپنا نام تبدیل کر کے’’ میٹا ایف ایکس گلوبل‘‘ رکھ لیا ہے (www.metafsglobal.com) ۔ یہ کمپنی ایک بروکر ہے ،جو کہ لوگوں سے رقم لے کر کاروبار میں لگاتی ہے ،اور لوگوں کوان کی دی گئی رقم پر ایک مخصوص مدت کے لئے منافع دیتی ہے،کیا ایسی کمپنی کو پیسے دے کر منافع لینا جائز ہے؟ کمپنی جس کاروبار میں پیسے لگارہی ہے ،اور جس حساب سے منافع ایک مخصوص مدت کے لئے دے رہی ہے، اس کی تفصیل درجِ ذیل ہے ، کلو بار جن میں پیسے لگا رہی ہے :
1-فاریکس ٹریڈنگ (12 مختلف قسم کی کرنسیز میں ٹریڈنگ )
2- کر پٹوکرنسی ٹریڈنگ (اس میں مائننگ شامل نہیں ) 3- گولڈ ٹریڈنگ (شیئرز کی خرید و فروخت )
4- کروڈ آئل ٹریڈنگ ( شیئرز کی خرید و فروخت ) ان تمام کاروبار میں شیئرز کو اپنے قبضہ میں لے کر ٹریڈنگ کی جاتی ہے۔ منافع جس حساب سے ملتا ہے اس کی تفصیل کچھ یوں ہے:
1۔ سٹینڈرڈ انویسمنٹ: سٹینڈرڈ میں دی گئی رقم کا 35ء0 سے لے کر 40-0 فیصد تک 730 دن تک کے لئے منافع ملتا ہے ۔ منافع کی شرح 35-0 سے کم بھی ہو سکتی ہے یا کسی دن کوئی منافع نہیں بھی ملتا، اس میں نقصان کا بھی امکان ہوتا ہے، مگر کمپنی ایک وقت میں کئی چیزوں پر ٹریڈنگ کر رہی ہوتی ہے اور اگر کسی ایک کاروبار میں نقصان ہو بھی جائے تو کسی اور کاروبار میں منافع سے برابر ہو جاتا ہے اور کلی طور پر نقصان کا امکان نہ ہونے کہ برابر ہے۔ 730 دن کے اختتام پر انویسٹ کی گئی رقم واپس نہیں کی جاتی۔ ایک بار انویسٹمنٹ کر دی جائے تو ہم اپنے پیسے بھی واپس نہیں لے سکتے اور ہر صورت 730 دن پورے کرنا لازمی ہیں ۔
2- پروانویسٹمنٹ: پرو میں سٹینڈرڈ کی نسبت فرق یہ ہے کہ اس میں 730 دن کے اختتام پر انویسٹ کی گئی رقم تو واپس مل جاتی ہے، مگر اس میں منافع کی شرح کم ہے جو کہ دی گئی رقم کا 25۔0 سے لے کر 30-0 فیصد تک بنتی ہے ۔ کیا اس کمپنی میں انویسٹمنٹ کر کے منافع لینا جائز ہے ؟
مذکور کمپنی کے متعلق ہمیں مکمل معلومات نہیں کہ مذکور کمپنی باقاعدہ طور پر رجسٹر ڈہے یا نہیں ؟نیز مذکور کمپنی کو عوام الناس سے سرمایہ لیکر کاروبار میں لگانے کی اجازت بھی ہے کہ نہیں؟ مزید یہ ہے کہ مذکور کمپنی کے کاروبار کی جو تفصیل ذکر کی گئی ہے ، وہ مکمل طور پر شرعی اصولوں کے مطابق بھی نہیں ہے ، لیکن اس طرح کی آن لائن کام کرنے والی کمپنیوں میں عموماً اشیاء کی خرید و فروخت یا تو سرے سے ہوتی نہیں ، یا اگر خرید و فروخت ہو بھی تو اس میں قبضہ کا تحقق نہیں ہوتا، بلکہ محض ڈیجٹل فرم میں فرق برابر کر کے نفع کمانا مقصود ہوتا ہے ، جو کہ شرعاً جائز نہیں، لہذا مذکور کمپنی میں انویسٹ کر کے نفع کمانے کے بجائے شکوک اور شبہات سے پاک کسی جائز کار و بار میں رقم لگانی چاہیئے۔
كما فى الترغيب والترهيب: من غشنا فليس منا اھ (۳/334)-
وفي شرح المجلة: المادة (19) لاضرر ولا ضرار، وهذه القاعده الماخوذة من الحديث الشريف الذي يرويه سيدنا ابو سعيد الخدريؓ وهو قوله عليه الصلوة والسلام: لاضرر ولاضرار في الاسلام اھ (ص: ۵۳) -
ایک شریک کا کمپنی سے قرض سے لیکر اس پر اسی کمپنی سے فلیٹ خریدکر شرکت ختم ہونے کے بعد باقی شرکاء کا اس فلیٹ کی موجودہ مارکیٹ ویلیو کے اعتبار سے قرض کی وصولی کا مطالبہ کرنا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0جس کی آمدنی کا معلوم نہ ہو کہ حلال یا حرام, اس کے ساتھ کاروباری معاملات کرنا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0شرکاء کا مشترکہ چیز , کسی ایک شریکِ کو حوالے کیے بغیر گفٹ کر کے اس کے نام کردینے کا حکم
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0سرمایہ دار کا، کاروبار کے اختتام پر سامان فروخت کرکے سرمایہ وصول کرنے کی شرط لگانا
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0کاروباری بندے کو رقم دی لیکن کوئی معاہدہ , شراکت یا مضاربت کی تصریح و تعیین نہ ہوئی
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0والد نے بیٹے کو زندگی میں کاروبار کے لیے جو رقم دی تھی وہ والد کے ترکے میں شامل ہوگی؟
یونیکوڈ شرکت و مضاربت 0