میرے والد صاحب سیمنٹ فیکٹری سے ریٹائر ڈ ہوئے، انہیں 20 لاکھ روپے ملے، اس وقت والد صاحب حج ادانہیں کر سکے،ہم بھی تعلیم حاصل کر رہے تھے، 2015 میں والد صاحب کا انتقال ہو گیا، ابھی میں جاب کررہا ہوں، گھر کا خرچ پورا ہورہاہے، لیکن میرا چھوٹا بھائی بیروزگار ہے ، اور ہم دونوں بھائی اور ایک بہن غیر شادی شدہ ہیں، گھربھی اللہ کے فضل سے اپنا ہے، ہم نے گاؤں میں زمین فروخت کی ہے جسکی مالیت 22 لاکھ ہے، تو میرے والدین پر حج کا کیا حکم ہے ؟
سائل کے والدین نے اگر اپنی طرف سے فرض حج ادا کرنے کی وصیت نہ کی ہو ، تو اولاد پر ان کی طرف سے حج ادا کرنا شرعاً لازم نہیں ، البتہ والدین کے احسانات کو مد ِّنظر رکھتے ہوئےبالغ اولاد اپنی طرف سے حج ادا کر لے ، اور اس کا ثواب ان کو بخش دے، تو یہ شرعاً جائز بلکہ مستحن ہے ۔
کما فی سنن الدار قطنی : عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , قَالَ: أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ , فَقَالَ لَهُ: إِنَّ أَبِي مَاتَ وَعَلَيْهِ حَجَّةُ الْإِسْلَامِ أَفَأَحُجُّ عَنْهُ؟ , قَالَ: «أَرَأَيْتَ لَوْ أَنَّ أَبَاكَ تَرَكَ دَيْنًا عَلَيْهِ أَقَضَيْتَهُ عَنْهُ؟» , قَالَ: نَعَمْ , قَالَ: «فَاحْجُجْ عَنْ أَبِيكَ» اھ (3/ 299)۔
و فی الرد تحت : ذلك (قوله إلا إذا حج أو أحج الوارث) أي فی جزئه إن شاء الله تعالى كما فی البدائع واللباب، وهذا إذا لم يوص المورث، (الی قوله ) والمعنى جاز عن حجة الإسلام إن شاء الله تعالى كما قاله فی الكبير اھ (2 /599)۔