میں تبلیغی جماعت کے ساتھ سہ روزے پر جانا چاہتا ہوں، لیکن والد صاحب اجازت نہیں دے رہے، اجازت نہ دینے کی وجہ یہ ہے کہ میرے اوپر گھر کی ذمے داری ہے، جبکہ کوئی بھی ذمے داری ایسی نہیں ہے جس کو تین دن نہ پورا کرنے سے گھر والوں کا کوئی نقصان ہو اور نہ میرے والدین میری خدمت کے محتاج ہیں، اب میں شرکت کروں یا والد صاحب کی بات مانوں؟ راہ نمائی فرمائیں۔
سائل کا تبلیغی جماعت والوں کے ساتھ اپنی اصلاح کی غرض سے سہ روزہ لگانے کی وجہ سے اگر سائل کے ذمہ لازمی امور کی انجام دہی میں کوتاہی نہ ہو رہی ہو، تو ایسی صورت میں سائل کے والد کو اسے بلا وجہ سہ روزہ سے منع نہیں کرنا چاہیے، بلکہ اسے اجازت دینی چاہیے، تاہم اگر فی الحال سائل کا والد سہ روزہ کیلئے راضی نہ ہو، تو ایسی صورت میں والد کو ناراض کر کے اس کی اجازت کے بغیر سہ روزہ میں جانا نہیں چاہیے، بلکہ اس کے بجائے گھر میں رہ کر اپنی ذمہ داری نبھانے کیساتھ ساتھ مقامی کام میں جڑنا چاہیے اور جب والد صاحب اجازت دیدیں، اس وقت چھوٹا ہوا سہ روزہ لگانا چاہیے۔
كما في سنن الترمذي: عن ابن مسعود قال: سألت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت: يا رسول الله، أي الأعمال أفضل؟ قال: "الصلاة لميقاتها"، قلت: ثم ماذا يا رسول الله؟ قال: "بر الوالدين"، قلت: ثم ماذا يا رسول الله؟ قال: "الجهاد في سبيل الله"، ثم سكت عني رسول الله صلى الله عليه وسلم ولو استزدته لزادني. هذا حديث حسن صحيح اھ(2/11)
وفيه أیضاً: عن أبي الدرداء، أن رجلا أتاه فقال: إن لي امرأة وإن أمي تأمرني بطلاقها، قال أبو الدرداء: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "الوالد أوسط أبواب الجنة، فإن شئت فأضع ذلك الباب أو احفظه" قال: وقال ابن أبي عمر: ربما قال سفيان: إن أمي وربما قال: أبي، وهذا حديث صحيح (2/12)
قال المحشى تحت هذا الحديث معناه: ان أحسن ما يتوسل به إلى دخول الجنة ويتوسل به إلى الوصول إليها مطاوعة الوالد ومراعاة جانبه اھ (2/12)
وفي الترغيب والترهيب: عن معاذ بن جبل رضی الله عنه قال: أوصانی رسول الله صلی اللہ عليه وسلم بعشر کلمات (إلى قوله) ولا تعقن والديك وان أمرك أن تخرج من أھلك ومالك اھ (3/329)