السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ!
کرکٹ ٹورنامنٹ جس میں متعدد ٹیمیں شرکت کریں اور اس کا انعام متعین ہو اور ہر ٹیم سے کھیلنے کی انٹر فيس لی جاتی ہو اور پھر ٹورنامنٹ انتظامیہ اس فیس میں سے ٹورنامنٹ کے اخراجات نکال کر متعین انعام جیتنے والے کو دے اور باقی رقم خود رکھ لے، کیا ایسا کھیل جائز ہے ؟ یا جو اقمار بازی کر زمرے میں آئے گا؟ برائے مہربانی راہ نمائی فرمائیں؟
انٹری فیس کے نام پر دونوں طرف کی ٹیموں سے رقم جمع کر کے کرکٹ یا کوئی بھی دوسرا کھیل کھیلنا، پھر جیتنے والی ٹیم کو بطورِ انعام جمع شدہ ر قم سے کپ یا کوئی اور انعام دینا، جو اہونے کی وجہ سے شرعاً جائز نہیں، جس سے احتراز لازم ہے ، البتہ یہ انعام اگر کسی ایک جانب سے ہو ، یا کسی تیسرے شخص کی طرف سے ہو ، تو ایسا انعام بلا شبہ جائز اور درست ہے، جس میں شرعاً کوئی حرج نہیں۔
كما في الفتاوى الهندية: وإنما يجوز ذلك إن كان البدل معلوما في جانب واحد بأن قال إن سبقتني فلك كذا وإن سبقتك لا شيء لي عليك أو على القلب أما إذا كان البدل من الجانبين فهو قمار حرام إلا إذا أدخلا محللا بينهما فقال كل واحد منهما إن سبقتني فلك كذا وإن سبقتك فلي كذا وإن سبق الثالث لا شيء له والمراد من الجواز الحل لا الاستحقاق كذا في الخلاصة اھ (5/ 324)۔