السلام علیکم!
میرا نام احسن ہے، میں لاہور کا رہائشی ہوں، میں اپنے کاروبار کے متعلق سوال کا جواب چاہتا ہوں، میں سائیکل پارٹس کاکام کرتا ہوں ،میں سائیکل کا چین کور بناتا ہوں، مجھے یہ کام کرتے بارہ سال ہو گئے ہیں، مجھ سمیت کئی لوگ یہ کام کرتے ہیں ،سائیکل جو کہ ایک کم مقدار میں ہونے والا کاروبار ہے، سائیکل تقریباً ختم ہو چکا ہے، اور اس کی ایک نامور کمپنی Sohrab ہے جو کہ سائیکل کا کام ختم کر چکی ہے، اور اب وہ سائیکل کا کام نہیں کر رہے، پر ہم اپنی پروڈکٹ پر ان کا نام استعمال کرتے ہیں، Packing کے اوپر St لکھتے ہیں، اس کا مطلب ہے Sohrab type یعنی ہم اپنا مال جس کو فروخت کرتے ہیں ،اس کو پتہ ہوتا ہے اور ہم بتا دیتے ہیں ،مال کمپنی کا نہیں ہے اور لوکل ہے ،اس پر ST لکھا ہوا ہے ،اور پیس کے اوپر اسٹیکر Sohrab کا ہے ،اور وہ ہم سے مال لے لیتا ہے، اور جب وہ آگے اپنا مال فروخت کرتا ہے یعنی اپنے گاہک کو تب وہ اس کو بتا دیتا ہے کہ مال لوکل ہے کمپنی کا نہیں ہے، اور یہ سارا معاملہ کمپنی کے نوٹس میں ہے مگر کمپنی نے کبھی کوئی قانونی کاروائی یاکسی قسم کا کوئی بھی نوٹس نہیں لیا۔ اب کیا اس طرح کا کام کرنا ہمارے لئے جائز ہے یا نہیں؟
واضح ہو کہ کسی بھی کمپنی کا تجارتی نام (ٹریڈ مارک) کمپنی کی اجازت کے بغیر استعمال کرنا دھو کہ اور شرعاً نا جائز ہے، لیکن اگر بنانے والا فروخت کرنے والا اور خریدنے والا سب یہ جانتے ہوں کہ یہ اصل کمپنی کی بنائی ہوئی چیز نہیں، بلکہ کمپنی کی نقل ہے، اور کمپنی کی طرف سے بھی اس نام کے استعمال کرنے پر کوئی ردِ عمل ظاہر نہ کیا گیا ہو تو ایسی صورت میں اس کمپنی کا نام استعمال کر کے فروخت کرنے کی گنجائش ہے، چنانچہ صورتِ مسئولہ میں جب مذکور کمپنی بند ہو چکی ہے اور انہوں نے اس پروڈکٹ کو بنانا بھی بند کر دیا ہے، اور مارکیٹ میں ان کے نام کے استعمال پر کمپنی کی طرف سے کوئی ردِ عمل بھی ظاہر نہیں کیا جاتا ہے، تو سائل کے لئے مذکور لوگو کے استعمال کرنے کی گنجائش معلوم ہوتی ہے۔
کمافي سنن الترمذي: عن عبد الله بن مسعود قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «عليكم بالصدق فإن الصدق يهدي إلى البر، وإن البر يهدي إلى الجنة، وما يزال الرجل يصدق ويتحرى الصدق حتى يكتب عند الله صديقا، وإياكم والكذب فإن الكذب يهدي إلى الفجور، وإن الفجور يهدي إلى النار، وما يزال العبد يكذب ويتحرى الكذب حتى يكتب عند الله كذابا» اھ (4/ 348)۔
عن أبي هريرة، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم مر على صبرة من طعام، فأدخل يده فيها، فنالت أصابعه بللا، فقال: «يا صاحب الطعام، ما هذا؟»، قال: أصابته السماء يا رسول الله، قال: «أفلا جعلته فوق الطعام حتى يراه الناس»، ثم قال: «من غش فليس منا» اھ (ابواب البيوع ، باب ماجاء في كراهة الغش في البيوع (3/ 598) -