مجھے میرے بہنوئی نے سعودی عرب سے 50000 ریال بطور امانت بھیجے ، میں نے چوری کے ڈر سے ریال پاکستانی روپے میں تبدیل کروا کر اپنے اکاؤنٹ میں جمع کرا دیئے ، ریال اس وقت 27 روپے کا تھا اور اب 40 روپے کا ہے ، مجھے امانت ریال کی صورت میں واپس کرنا لازمی ہے یا پاکستانی روپوں کی شکل میں ؟
صورت مسئولہ میں اگر سائل نے اپنے بہنوئی کی اجازت سے ریال کو روپوں میں تبدیل کروا کر اپنے اکاؤنٹ میں بطور حفاظت رکھا، یا سائل کے پاس بطور ریال اس رقم کی حفاظت کی کوئی صورت ممکن نہیں تھی تو اس صورت میں سائل اس قدر رقم کا ذمہ دار ہے جس قدر رقم ریال سے تبدیلی کی شکل میں حاصل ہوئی تھی، اگر سائل کے لئے ریال کی صورت میں حفاظت ممکن تھی اور اس نے بغیر اجازت مال امانت میں تصرف کیا تو اس کے ذمہ اب پچاس ہزار ریال کی واپسی لازم ہے۔
كما في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): لأن مال الأمانة يتعين بالتعيين اھ (5/ 535)
و في بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع: فأما إذا شرط فيه شرطا نظر فيه، إن كان شرطا يمكن اعتباره ويفيد؛ اعتبر، وإلا فلا، بيان ذلك؛ إذا أمره بالحفظ وشرط عليه أن يمسكها بيده ليلا ونهارا ولا يضعها؛ فالشرط باطل حتى لو وضعها في بيته، أو فيما يحرز فيه ماله عادة، فضاعت؛ لا ضمان عليه اھ (6/ 209) والله اعلم بالصواب
علاقے کی ترقی کے لیے منظور شدہ فنڈ میں خرد برد کر کے ذاتی مفاد کے استعمال کرنے کا حکم
یونیکوڈ امانت و ودیعت 0طلبہ کو بیگ(بستہ)دلانے کے لیے دی گئی رقم میں سے استاد اپنے آنے جانے کا خرچ لے سکتا ہے ؟
یونیکوڈ امانت و ودیعت 0والدہ کے پاس رکھوائی ہوئی امانت کی واپسی میں, ایک بیٹی کا ان کے انتقال کے بعد ٹال مٹول سے کام لینا
یونیکوڈ امانت و ودیعت 0زندگی میں اپنا مکان ایک بیٹی ،پانچ بیٹوں میں سے فقط دو بیٹوں میں تقسیم کرنا جائز ہے ؟
یونیکوڈ امانت و ودیعت 0