کچھ روز قبل فجر کے بعد جب میں نے گھر کا مرکزی دروازہ کھولا تو دروازے پر چند ہزار روپے ملے ، وہ امانۃً میرے پاس موجود ہیں، معلوم کرنے پر ایک صاحب نے کچھ حصہ خیرات کرانے کو کہا ، دوسرے صاحب نے کہا کہ یہ رقم مسجد کو دی جائے تا کہ جس کسی کی یہ رقم ہے اس کے لیے صدقہ جاریہ ہو گا، آپ بتائیں کہ کیا کرنا ہوگا؟
جو رقم سائل کو ملی ہے، وہ لقطہ ہے، جس کا حکم یہ ہے کہ اس کا اعلان کیا جائے، اگر مالک آجائے تو بہتر ورنہ جب مالک کی طرف سے مایوسی ہو جائے کہ اب وہ نہیں آئے گا تو ایسی صورت میں یہ رقم مالک کی طرف سے کسی مستحق فقیر کو صدقہ کر سکتے ہیں اگر سائل خود بھی فقیر ہو تو وہ خود یہ رقم رکھ سکتا ہے، تاہم مالک اگر اس صدقہ کے بعد آجائے اور اپنی رقم کا مطالبہ کرے تو اس کو اس کی رقم واپس کرنا لازم ہوگا ۔
كما فی الدر المختار: (وعرف) أي نادى عليها حيث وجدها و في الجامع (إلى أن علم أن صاحبها لا يطلبها (إلى قوله) (فينتفع) الرافع (بها لو فقيرا وإلا تصدق بها على فقير ولو على أصله وفرعه وعرسه( الى قوله) (فإن جاء مالكها) بعد التصدق (خير بين إجازة فعله ولو بعد هلاكها) وله ثوابها (أو تضمينه) اھ (4/ 280،278) والله اعلم بالصواب
علاقے کی ترقی کے لیے منظور شدہ فنڈ میں خرد برد کر کے ذاتی مفاد کے استعمال کرنے کا حکم
یونیکوڈ امانت و ودیعت 0طلبہ کو بیگ(بستہ)دلانے کے لیے دی گئی رقم میں سے استاد اپنے آنے جانے کا خرچ لے سکتا ہے ؟
یونیکوڈ امانت و ودیعت 0والدہ کے پاس رکھوائی ہوئی امانت کی واپسی میں, ایک بیٹی کا ان کے انتقال کے بعد ٹال مٹول سے کام لینا
یونیکوڈ امانت و ودیعت 0زندگی میں اپنا مکان ایک بیٹی ،پانچ بیٹوں میں سے فقط دو بیٹوں میں تقسیم کرنا جائز ہے ؟
یونیکوڈ امانت و ودیعت 0