ہمارے ماموں پچھلے 42 سال سے لاپتہ ہے ، زندہ ہے یا نہیں شادی ہوئی یا نہیں کچھ پتہ نہیں ہے . ان 42 سال کے درمیان کوئی رابطہ نہیں ہوا ہے ، ان کی عمر اِس وقت اگر زندہ ہو تو 74-سال سے اوپر ہوگی ، سوال یہ ہے کے ان کی ایک رقم ہمارے پاس بطور امانت ہے ، کیا یہ رقم ابب لواحقین میں تقسیم کی جا سکتی ہے ، لواحقین کی تفصیل سب بھائی کا انتقال ہو گیا ہے ، 2 بہن ہے ( زندہ ) 1 بھتیجا اور 4 بھتیجیاں ہے ،ان کے درمیان کس فیصد کے حساب سے رقم تقسیم ہوگی؟
صورت مسئولہ میں جب تک سائل کے ماموں کے انتقال کی خبر مصدقہ ذرائع سے معلوم نہیں ہو جاتی یا اس کے ہم عمر تمام لوگوں کا انتقال نہیں ہو جاتا اس وقت تک اسے زندہ تصور کیا جائیگا اور اس کا تمام مال وجائیداد مذکور امانت سمیت ورثاء میں تقسیم نہیں کیا جاسکتا،البتہ اگر سائل کے ماموں کے انتقال کی خبر مصدقہ ذرائع سے موصول ہو جائے یا ان کے تمام ہم عمر دنیا سے رخصت ہو جائے تو اس وقت ان کے موجود اور وفات پانے والے ورثاء اور ترکہ کی تفصیل لکھ کر مسئلہ معلوم کر لیا جائے۔
کما فی بدائع الصنائع: (أما) الأول: فالمفقود اسم لشخص غاب عن بلده ولا يعرف خبره أنه حي أم ميت (فصل): وأما حال المفقود: فعبارة مشايخنا – رحمهم الله – عن حاله أنه حي في حق نفسه ميت في حق غيره، والشخص الواحد لا يكون حيا وميتا حقيقة لما فيه من الاستحالة ولكن معنى هذه العبارة أنه (تجري) عليه أحكام (الأحياء) فيما كان له فلا يورث ماله ولا تبين امرأته كأنه حي حقيقة (وتجري) عليه أحكام الأموات فيما لم يكن له فلا يرث أحدا كأنه ميت حقيقة؛ لأن الثابت باستصحاب الحال يصلح لإبقاء ما كان على ما كان ولا يصلح لإثبات ما لم يكن وملكه في أحكام أمواله ونسائه أمر قد كان واستصحبنا حال الحياة لإبقائه وأما ملكه في مال غيره: فأمر لم يكن فتقع الحاجة إلى الإثبات واستصحاب الحال لا يصلح حجة لإثبات ما لم يكن، وتحقيق العبارة عن حاله أن غير معلوم، يحتمل أنه حي ويحتمل أنه ميت، وهذا يمنع التوارث والبينونة؛ لأنه إن كان حيا يرث أقاربه ولا يرثونه ولا تبين امرأته، وإن كان ميتا لا يرث أقاربه ويرثونه والإرث من الجانبين أمر لم يكن ثابتا بيقين فوقع الشك في ثبوته فلا يثبت بالشك والاحتمال الخ (ج6 صـ196)
وفی الدر المختار: وفی الدر المختار: إنما يحكم بموته بقضاء لأنه أمر محتمل، فما لم ينضم إليه القضاء لا يكون حجة الخ (ج4 صـ197 کتاب المفقود ط: سعید)۔
علاقے کی ترقی کے لیے منظور شدہ فنڈ میں خرد برد کر کے ذاتی مفاد کے استعمال کرنے کا حکم
یونیکوڈ امانت و ودیعت 0طلبہ کو بیگ(بستہ)دلانے کے لیے دی گئی رقم میں سے استاد اپنے آنے جانے کا خرچ لے سکتا ہے ؟
یونیکوڈ امانت و ودیعت 0والدہ کے پاس رکھوائی ہوئی امانت کی واپسی میں, ایک بیٹی کا ان کے انتقال کے بعد ٹال مٹول سے کام لینا
یونیکوڈ امانت و ودیعت 0زندگی میں اپنا مکان ایک بیٹی ،پانچ بیٹوں میں سے فقط دو بیٹوں میں تقسیم کرنا جائز ہے ؟
یونیکوڈ امانت و ودیعت 0