جنابِ عالی! گزارش ہے کہ میں ڈاکٹر فیض الرحمٰن ولد فضل الرحمٰن سکنہ بلوچی اسٹریٹ کوئٹہ، عرصہ 52 سال سے ایک مکان میں رہائش پذیر ہوں، والد صاحب 20 سال پہلے وفات پاچکے ہیں، اس سارے عرصے 1972 سے آج تک اس مکان کا کوئی مالک نہ میرے پاس آیا اور نہ کسی کا پتہ چلا، ہم نے اپنے طور پر ڈھونڈنے کی کوشش کی، مگر کسی کا پتہ نہیں چلا، نہ ہمارے والد صاحب کو اور نہ ہی ہمیں، ہماری پوزیشن واضح کی جائے کہ قانونی اور شرعی طور پر ہماری کیا حیثیت ہے اور ہمارا کیا حق ہے؟ تاکہ دانستہ یا نا دانستہ طور پر کسی کی دل آزاری نہ ہو۔ جناب کی نوازش ہوگی۔
تنقیح:
جواب ِ تنقیح:
مفتی غیب نہیں جانتا، وہ سوال کے مطابق جواب دینے کا پابند ہوتا ہے، سوال کے سچ یا جھوٹ پر مبنی ہونے کی ذمہ داری سائل پر عائد ہوتی ہے، اس مختصر تمہید کے بعد واضح ہو کہ سوال میں ذکر کردہ تفصیل اور اس کے ساتھ درج تنقیحات و جوابات کے مطابق مذکور مکان کی زمین ( پلاٹ ) سائل کے نانا کے دوست کی ملکیت تھی اور اس کی اجازت سے سائل کے نانا نے اس پر بنی ہوئی بوسیدہ تعمیر میں رہائش اختیار کر کے بعد میں اس کو منہدم کر کے اس پر نیا مکان تعمیر کرایا تھا، اس لئے اصل مالک کی طرف سے صراحتاً یا دلالۃً اجازت کی وجہ سے سائل کے نانا اور اس کے بعد سائل کے لئے اس میں رہائش اختیار کرنے کی گنجائش تھی، اس لئے وہ اس میں رہائش کی وجہ سے گناہگار بھی نہ ہوں گے، مگر فقط اس میں رہائش اختیار کرنے یا اصل مالک اور اس کے ورثا کا علم نہ ہونے کہ وجہ سے اس مکان کی زمین سائل کی ملکیت نہیں بنی ، بلکہ بدستور اصل مالک اور اس کے انتقال کی صورت میں اس کے ورثا کی ملکیت ہے، لہٰذا سائل کے لئے اسے قانونی دستاویزات میں اپنے نام ٹرانسفر کرا کر اپنے آپ کو حقیقی مالک ظاہرکرنا یا حقیقی مالک کی طرح اس کی خرید و فروخت وغیرہ جیسے تصرفات کرنا شرعاً جائز نہیں بلکہ حقیقی ورثا کو تلاش کر کے ان کے حوالے کرنا یا ان کے ساتھ مل کر شرعی طریقہ سے اس معاملہ کو حل کرنا لازم ہے ، تاکہ مواخذۂ دنیوی و اخروی سے سبکدوشی ہوسکے۔
کما فی شرح المجلۃ: ما ثبت بزمان یحکم ببقاء ما لم یقم الدلیل علی خلافہ ، فاذا ثبت بزمان ملک شیء لأحد یحکم ببقاء الملک لہ ما لم یوجد ما یزیلہ ( الی قولہ ) فمن کان مالکاً لعین ملکیۃ ثابتۃ متحققۃ فیما مضی، لا یخرج عن ملکہ فیما بعد، الا باثبات ما یزیلہ ، بنحو ھبۃ أو بیع أو اقرار الخ ( المادۃ 10 ص 29 ط:حقانیہ )۔
علاقے کی ترقی کے لیے منظور شدہ فنڈ میں خرد برد کر کے ذاتی مفاد کے استعمال کرنے کا حکم
یونیکوڈ امانت و ودیعت 0طلبہ کو بیگ(بستہ)دلانے کے لیے دی گئی رقم میں سے استاد اپنے آنے جانے کا خرچ لے سکتا ہے ؟
یونیکوڈ امانت و ودیعت 0والدہ کے پاس رکھوائی ہوئی امانت کی واپسی میں, ایک بیٹی کا ان کے انتقال کے بعد ٹال مٹول سے کام لینا
یونیکوڈ امانت و ودیعت 0زندگی میں اپنا مکان ایک بیٹی ،پانچ بیٹوں میں سے فقط دو بیٹوں میں تقسیم کرنا جائز ہے ؟
یونیکوڈ امانت و ودیعت 0