مجھے میرے بہنوئی نے سعودی عرب سے پچاس ہزار (50000) ریال بطور امانت مجھ سے پوچھے بغیر بھیج دیئے ، میں نے چوری کے ڈر سے ریال پاکستانی روپیوں میں تبدیل کر کے اپنے پاکستانی پیسوں کے اکاؤنٹ میں جمع کروا دیئے ، اب ریال چالیس روپے کا ہے ، جبکہ میں نے ستائیس روپے کا جمع کر وایا تھا، میرے لئے امانت کے واپس کرنے کا کیا حکم ہے پاکستانی روپیوں میں یا ریال میں؟
سائل کے بہنوئی نے جس طرح ریال کی شکل میں پیسے سائل کے پاس بطور امانت رکھوائے تھے اس طرح ریال ہی میں پیسے واپس کر نا سائل کے ذمہ لازم ہے ، البتہ اگر بہنوئی پاکستانی ستائیس روپے کے حساب سے امانت واپس لینے پر بخوشی راضی ہو جائے تو اس میں بھی حرج نہیں، ورنہ امانت واپس کرتے وقت ریال کی جو قیمت ہو گی سائل کے ذمہ اس کے اعتبار سے امانت واپس کر نالازم ہے۔
كما في القضايا: لو اقترض الرجل صاعاً من الحنطة وقيمتها يومئذ خمس ربيات مثلاً ، فلم يؤدها الى المقرض الا بعد ما صارت قيمتها ربيتين فحسب، فانه لا يرد الى المقرض الا صاعاً واحداً، رغم ان مالية الصاع الواحد قد انتقضت من خمس ربيات الى ربيتين ، وهذا باجماع الفقهاء قديماً وحديثاً اھ (۱/ 184) واللہ اعلم بالصواب
علاقے کی ترقی کے لیے منظور شدہ فنڈ میں خرد برد کر کے ذاتی مفاد کے استعمال کرنے کا حکم
یونیکوڈ امانت و ودیعت 0طلبہ کو بیگ(بستہ)دلانے کے لیے دی گئی رقم میں سے استاد اپنے آنے جانے کا خرچ لے سکتا ہے ؟
یونیکوڈ امانت و ودیعت 0والدہ کے پاس رکھوائی ہوئی امانت کی واپسی میں, ایک بیٹی کا ان کے انتقال کے بعد ٹال مٹول سے کام لینا
یونیکوڈ امانت و ودیعت 0زندگی میں اپنا مکان ایک بیٹی ،پانچ بیٹوں میں سے فقط دو بیٹوں میں تقسیم کرنا جائز ہے ؟
یونیکوڈ امانت و ودیعت 0بطورِ امانت دیے گئے ریال کو روپوں میں تبدیل کرنے کے بعد واپسی کس طرح کی جائیگی؟
یونیکوڈ امانت و ودیعت 0