السلام علیکم! میرا یہ مسئلہ ہے کہ میری والدہ سندھ کے علاہ میرپور خاص گئی تھیں جیسے ہی کراچی سے میرپور خاص پہنچی تو بس سٹاپ سے ان کو ایک انگوٹھی بھی ملی ،پہلے تو معلوم نہیں تھا کہ یہ اصلی سونا ہے جب ماموں کے گھر گئے تو وہاں سنار کو دکھایا تو پتہ چلا کہ وہ اصلی سونا ہے اس انگوٹھی کی مالیت پوچھی تو پتہ چلا چار ہزار چھ سو روپے ہے ، کراچی دوبارہ آگئی انگوٹھی ملے ہوئے تقریباً ایک ماہ سے زیادہ ہو گیا ہے، اب وہ دوبارہ کراچی آچکی ہے ،اب ایسی صورت میں اس سونے کی انگوٹھی کا کیا کیا جائے ؟برائے مہربانی آپ شرعی رہنمائی فرما دیں۔
ایسے مقامات سے ملنے والی وہ اشیاء جن پر کوئی نام و نشان نہ ہو، اصل مالک تک پہنچانا مشکل بلکہ عموماً نا ممکن ہوتا ہے۔ تاہم ان اشیاء کے لقطہ ہونے میں کوئی شبہ نہیں، اس لیے اگر باوجود تشہیر کے انگوٹھی کو اس کے مالک تک پہنچانا مشکل اور نا ممکن ہو،تو ایسی صورت میں اصل مالک کی طرف سے اس کا صدقہ کرنا ضروری ہے بایں طور کہ کسی غریب و مستحق کو مالک بنا کر دیدیں ۔
علاقے کی ترقی کے لیے منظور شدہ فنڈ میں خرد برد کر کے ذاتی مفاد کے استعمال کرنے کا حکم
یونیکوڈ امانت و ودیعت 0طلبہ کو بیگ(بستہ)دلانے کے لیے دی گئی رقم میں سے استاد اپنے آنے جانے کا خرچ لے سکتا ہے ؟
یونیکوڈ امانت و ودیعت 0والدہ کے پاس رکھوائی ہوئی امانت کی واپسی میں, ایک بیٹی کا ان کے انتقال کے بعد ٹال مٹول سے کام لینا
یونیکوڈ امانت و ودیعت 0زندگی میں اپنا مکان ایک بیٹی ،پانچ بیٹوں میں سے فقط دو بیٹوں میں تقسیم کرنا جائز ہے ؟
یونیکوڈ امانت و ودیعت 0