السلام علیکم!
ایک مسئلے میں آپ کی رہنمائی درکار ہے،میں نے کچھ سونا جو کہ ایک سیٹ اور تین انگوٹھیاں , جن کی مالیتِ موجودہ دس لاکھ بنتی ہے, اپنی والدہ کے پاس بطور امانت رکھوایا , کیونکہ میری پہلی بیوی نے اپنے والدین کا زیور بیچ دیا تھا تو میں نے بچیوں کے لئے والدہ کے پاس رکھا ،فروری 2022 میں والدہ کی وفات ہو گئی، والد کی پہلے وفات ہو ئی، اس کے بعد میں نے اپنی امانت واپس مانگی تو میری بڑی بہن نے ٹال مٹول سے کام لیا ، میں نے اپنے بڑے چچا کے ذریعے بات کی تو باجی نے ہر بار بہانہ کیا کہ لاکر میں ہے، چچا بھی بار بار مانگ کے چپ ہو گئے، تو میں نے اپنے ماموں کے بیٹے کے ذریعے بات کی تو باجی نے بولا کہ وہ اس نےمیری بڑی بیٹی کو دے دیا ہے، بڑی بیٹی سے بوجہ والد کی نافرمانی ،بدزبانی اور غلط فعل لا تعلقی ہے، بڑی بیٹی اپنی شادی پر میری دوسری بیوی کا زیور لے گئی ہے، دو اور بیٹیوں کی شادی کرنی ہے، والدہ کی وفات کے بعد میرے بہن بھائیوں نے ہر چیز تقسیم کر لی، جبکہ مجھے اپنا سامان جو والدہ کے گھر تھا وہ بھی کسی نے نہیں دیا، اور نہ ہی امانت رکھوایا ہوا زیور، قران و سنت کی روشنی میں مسئلہ بتایا جائے کہ آیا امانت واپس نہ کرنے کامیری والدہ اور میری بہنوں پر شرعاً کیا حکم ہو گا ؟
سوال میں ذکر کر دہ وضا حت اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو اس میں کسی قسم کی غلط بیانی اور دروغ گوئی سے کام نہ لیا گیا ہو ، اور واقعۃً مذکور سونے کے زیورات سائل کے ذاتی ہوں جو سائل نے والدہ کے پاس بطور امانت رکھوائے تھے تو سائل کے والدہ مرحومہ کے انتقال کے بعد سائل کی بڑی بہن کا مذکور سونے کے زیورات پر قبضہ کرلینا اور مطالبہ کے باوجود ادائیگی میں ٹال مٹول سے کام لینا شرعاً ناجائز اور گناہِ کبیرہ ہے، جس سے مذکور بڑی بہن کو احتراز لازم ہے،مذکور بہن پر لازم ہے کہ جلد از جلد مذکور سونے کے زیورات سائل کو لوٹا کراخروی پکڑ سے سبکدوشی کی فکر کرے، نیز سائل کی بہن بھائیوں کا والدہ مرحومہ کا ترکہ آپس میں تقسیم کرکے سائل کو اس کے شرعی حصہ سےمحروم کرنا بھی شرعاً ناجائز اور حرام اور گناہِ کبیرہ ہے، ورثاء پر لازم ہے کہ والدہ کا ترکہ اصولِ میراث کے مطابق تمام ورثاء کےدرمیان حسبِ حصصِ شرعیہ تقسیم کرکے ہر وارث کو اس کا حصہ حوالہ کردیں ورنہ اخروی پکڑ سے سبکدوشی نہ ہوسکے گی،جبکہ اپنے حق کی وصولیابی کیلئے سائل قانونی چارہ جوئی بھی کرسکتا ہے.
کما فی سنن ابن ماجہ : عن انس بن مالک رضی اللہ عنہ قال : قال رسول اللہ ﷺ من فرض من میراث وارثہ قطع اللہ میراثہ من الجنۃ یوم القیامۃ (الحدیث:2/194) ۔
و فی مرقاۃ المفاتیح : حق الامانۃ ان تؤدی الیٰ اھلھا فالخیانۃ مخافۃ لھا اھ(1/126)۔
علاقے کی ترقی کے لیے منظور شدہ فنڈ میں خرد برد کر کے ذاتی مفاد کے استعمال کرنے کا حکم
یونیکوڈ امانت و ودیعت 0طلبہ کو بیگ(بستہ)دلانے کے لیے دی گئی رقم میں سے استاد اپنے آنے جانے کا خرچ لے سکتا ہے ؟
یونیکوڈ امانت و ودیعت 0والدہ کے پاس رکھوائی ہوئی امانت کی واپسی میں, ایک بیٹی کا ان کے انتقال کے بعد ٹال مٹول سے کام لینا
یونیکوڈ امانت و ودیعت 0زندگی میں اپنا مکان ایک بیٹی ،پانچ بیٹوں میں سے فقط دو بیٹوں میں تقسیم کرنا جائز ہے ؟
یونیکوڈ امانت و ودیعت 0