جناب علماء د یو بندو مفتیان کرام ، شرعی و ضاحت درکار ہے سرکاری منظور شدہ فنڈ ز میں خورد برد کے بارے میں ، کہ سرکاری ترقیاتی فنڈ ز جو علاقے کی تر قی کیلئے ا جتماعی طور پر منظور ہوتا ہے، لیکن کچھ لوگ اس میں غبن کرتے ہیں ، ہمارے ہاں جو کرتے ہیں ،ان کا تعلق ا یک مذہبی جماعت سے ہے، اور وہ مولوی صاحبان جن کو سب معلوم ہونے کے با و جو د اس طرح کرتے ہیں ،مثلا روڈ ،نالی ، تالاب ، پانی کا بور ، پانی کی ٹینکی وغیرہ اپنے گھر وں کے ا ندر روڈ بنائے ہیں ، نالی اور سولر لائٹس پلیٹ اور بیٹری وغیرہ جو پورے علاقہ کیلئے منظور ہوتا ہے لیکن ایم پی اے کے بندے نے اپنے آ پس میں تقسیم کیا ہے ،یہ جب منظور ہوتا ہے تو کسی فرد واحد کا نام نہیں لکھا ہوتا، بلکہ پورے علاقے کی ترقی کیلئے ہوتا ہے جیسے ایک گاؤں ہے، جس کا نا م کربلا ہے، سالانہ ترقیاتی منصوبوں میں ( PSDP) کر بلا کا اس طرح ذکر ہوتا ہے کہ "کلی کربلا پشین" کیلئے دو عدد سرکاری بور منظور، اب یہاں کسی ایک بندے یا پارٹی کا نام نہیں لیا جاتا ،
ہمارے یہاں ایک سیاسی جماعت کے بندے یہ سب کچھ اپنے اپنے گھرانے میں تقسیم کرتے ہیں ۔
سائل کا سو ال پوری طرح واضح نہیں کہ مذ کور با ا ثر افراد علاقے کیلئے منظور شدہ ا جتماعی فنڈ ز میں خورد برد کر کے اپنے ذا تی مفاد کیلئے استعمال کرتے ہیں یا تالاب ، پانی کی ٹینکی بنانے اور سولر لائٹ پیلٹوں وغیرہ کو نصب کرنے کیلئے ا پنی مرضی سے مناسب جگہ کا ا نتخاب کرتے ہیں ،تا کہ اس کے مطابق جو اب دیا جا تا ، تا ہم ا گر مذکور افراد وا قعۃً علاقے کی تعمیر و تر قی کیلئے سرکار کی طرف سے منظور شدہ ا جتماعی فنڈ میں خورد برد کرکے اسے اجتماعی اور عوا می کاموں میں استعمال کرنے کے بجائے ذاتی مفاد کیلئے استعمال کرتے ہوں ،تو ان کا یہ عمل بد دیانتی اور عام لوگوں کے حق تلفی پر مبنی ہونے کی وجہ سے شرعاً ناجائز اور حرام ہے ، جس پر انہیں بصدق دل توبہ و استغفار اور آئندہ اس طرح کی بددیانتی سے اجتناب لازم ہے ۔
و فی صحيح البخاري : قال : حدثني سالم، مولى ابن مطيع، أنه سمع أبا هريرة رضي الله عنه، يقول: افتتحنا خيبر، و لم نغنم ذهبا و لا فضة، إ نما غنمنا البقر و الإبل و المتاع و الحوائط، ثم انصرفنا مع رسول الله صلى الله عليه و سلم إلى وادي القرى، و معه عبد له يقال له مدعم، أهداه له أحد بني الضباب، فبينما هو يحط رحل رسول الله صلى الله عليه و سلم إذ جاءه سهم عائر، حتى أصاب ذلك العبد، فقال الناس: هنيئا له الشهادة، فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم بل والذي نفسي بيده إن الشملة التي أصابها يوم خيبر من المغانم لم تصبها المقاسم لتشتعل عليه نارا اھ (5/138)۔
و فی المبسوط للسرخسي : لا يحل لأحد أن يأخذ متاع أخيه لاعبا، و لا جادا، فإن أخذه فليرده عليه اھ (11/49)۔
علاقے کی ترقی کے لیے منظور شدہ فنڈ میں خرد برد کر کے ذاتی مفاد کے استعمال کرنے کا حکم
یونیکوڈ امانت و ودیعت 0طلبہ کو بیگ(بستہ)دلانے کے لیے دی گئی رقم میں سے استاد اپنے آنے جانے کا خرچ لے سکتا ہے ؟
یونیکوڈ امانت و ودیعت 0والدہ کے پاس رکھوائی ہوئی امانت کی واپسی میں, ایک بیٹی کا ان کے انتقال کے بعد ٹال مٹول سے کام لینا
یونیکوڈ امانت و ودیعت 0زندگی میں اپنا مکان ایک بیٹی ،پانچ بیٹوں میں سے فقط دو بیٹوں میں تقسیم کرنا جائز ہے ؟
یونیکوڈ امانت و ودیعت 0