(+92) 0317 1118263

نکاح

نکاح کے بعد رخصتی سے پہلے میاں بیوی کا میل جول رکھنا

نکاح کے بعد رخصتی سے پہلے میاں بیوی کا میل جول رکھنا فتوی نمبر: 40532

الاستفتاء

اگر لڑکی کا نکاح ہوگیا رخصتی نہ ہوئی ہو اور وہ لڑکی اپنے منگیتر سے چوری چپکے سے ملتی ہو اور ہمبستری بھی کرلی تو شریعت کے مطابق وہ گنہگار ہے کہ نہیں؟

الجواب حامدا و مصلیا

نکاح ہوجانے کے بعد لڑکے لڑکی کا ایک دوسرے کے ساتھ ملنا اگرچہ جائز ہے اور اس کی وجہ سے وہ گنہگار بھی نہیں ہوں گے مگر رخصتی سے قبل ملنے جلنے کو معیوب سمجھا جاتا ہے اور اگر اس کے نتیجے میں اولاد پیدا ہوجائے تو بلاوجہ تہمت اور خاص کر لڑکی اور اس کے والدین کیلئے بدنامی کا اندیشہ ہوتا ہے، اس لئے اس سے اجتناب کرنا چاہئے اور جلد از جلد رخصتی کا اہتمام کرنا چاہئے۔


کما فی مرقاۃ المفاتیح: (عن ابن مسعودؓ قال: رأی رسول اللہ ﷺ امرأۃ فأعجبتہ فأتی سودۃ) أی بیتہا (وہی تصنع طیبا وعندہا نساء) جملتان حالیتان (فأخلینہ) أی انفردن عنہ (قضی حاجتہ) أی من الجماع (ثم قال أیما رجل رأی امرأۃ تعجبہ إلی أہلہ) أی فلیجامع امرأتہ لیکسر شہوتہ ویذہب وسوستہ (فإن معہا) أی مع امرأتہ (مثل الذی معہا) أی فرجا مثل فرجہا ویسد مسدہا قال الطیبی: یرید أن غایۃ ذلک النظر ہذا الفعل ولکن التفاوت أن فی تلک الغایۃ سخطا من اللہ وہذہ بخلافہ وکانت تلک الفعلۃ بمحضر من النساء إرشادا لہن ولأزواجہن إلی ما ینبغی أن یفعل۔ (رواہ الترمذی: ج۶، ص۲۵۶)


وفیہ ایضًا: ولو دخل الزوج بہا أو خلا بہا برضاہا فلہا أن تمنع نفسہا عن السفر بہا حتی تستوفی جمیع المہر علی جواب الکتاب۔ الخ (ج۱،ص۳۱۷)


کما فی الشامیۃ: (قولہ: کتزوجینی) (قولہ: إذا لم ینو الاستقبال) أی الاستیعاد أی طلب الوعد (الی قولہ) قال فی شرح الطحاوی: لو قال ہل أعطیتنیہا فقال أعطیت إن کان المجلس للوعد فوعد، وإن کان للعقد فنکاح۔ اھـ (ج۳، ص۱۱) واللہ اعلم بالصواب!