میں ایک سرکاری ملازم ہوں، ہر مہینے میری تنخواہ میں سے حکومت %10 سے %25 تک کٹوتی کرتی رہتی ہے ، اور اس کٹوٹی پر کچھ منافع بھی جمع کرتی ہے ، اس طرح اگلے سال بھی اس پوری رقم جمع پچھلے سال کا منافع پھر ملا کر نفع دیتی ہے ،کیا شریعت میں یہ نفع لینا جائز ہے یا نہیں؟ شرعی راہ نمائی فرمادیں۔
واضح ہو کہ پراویڈنٹ فنڈ (GPF) کی دو قسمیں ہیں: (1) جبری (2) اختیاری۔
جبری پراویڈنٹ فنڈ میں ملازم کی تنخواہ سے جو رقم ماہ بماہ کاٹی جاتی ہے ، اور اس پر ہر ماہ جو اضافہ محکمہ اپنی طرف سے کرتا ہے، پھر مجموعہ پر جورقم سالانہ بنام سود جمع کرتا ہے ، شرعاً ان تینوں رقموں کا حکم ایک ہی ہے ، اور وہ یہ کہ یہ سب رقمیں در حقیقت ملازم کی تنخواہ ہی کا حصہ ہیں، اگرچہ سود یا کسی اور نام سے دی جائیں، لہذاملازم کا ان کو لینا اور اپنے استعمال میں لانا جائز اور درست ہے۔ جبکہ پراویڈنٹ فنڈ کی دوسری قسم اختیاری ہے، جس کو ملازم اپنی مرضی اور اختیار سے کٹواتا ہے، اور اس پر کچھ رقم محکمہ بنام سود دیتا ہے، اس دوسری قسم میں چونکہ تشبّہ بالربا کے علاوہ سود خوری کا ذریعہ بنالینے کا خطرہ بھی ہے ، اس لئے اس رقم کو وصول ہی نہ کیا جائے ، یا وصول کر کے بغیر نیتِ ثواب کسی مستحقِ زکوۃ کو صدقہ کر دیا جائے۔ لہذا اگر سائل کی تنخواہ سے بھی جبری کٹوٹی ہو تو ایسی صورت میں سائل کے لئے اصل رقم جمع منافع وصول کرنا جائز اور درست ہو گا۔
کمافي الفتاوى الهندية: ثم الأجرة تستحق بأحد معان ثلاثة إما بشرط التعجيل أو بالتعجيل أو باستيفاء المعقود عليه فإذا وجد أحد هذه الأشياء الثلاثة فإنه يملكها كذا في شرح الطحاوي اھ (4/ 413)
وفيها أيضا: لو أن فقيرا يأخذ جائزة السلطان مع علمه أن السلطان يأخذها غصبا أيحل له قال إن خلط ذلك بدراهم أخرى فإنه لا بأس به اھ (5/ 342)-