اگر کسی لڑکی کا نکاح ہو گیا ہو اور رخصتی نہ ہوئی ہو، لڑکی اپنے گھر والوں سے چھپ چھپ کر اپنے شوہر سے ملتی ہو اور میاں بیوی ہمبستری کرتے ہوں اور والدین کو پتہ چل جائے تو شریعت کے مطابق کیا عمل کرنا چاہیئے ؟
واضح ہو کہ شرعی طریقہ پر نکاح ہو جانے کے بعد رخصتی سے قبل بھی اپنی منکوحہ سے ملنا اور اس کے ساتھ ہمبستری وغیرہ کرنا اگرچہ شرعاً جائز ہے مگر عرف اور معاشرے میں معیوب سمجھا جاتا ہے ، اس لئے مذکور لڑکے لڑکی کو رخصتی سے قبل اس طرح نہیں کرنا چاہئے تھا، لیکن اگر انہوں نے ہمبستری کر لی ہو، جس کا علم اس کے والدین کو بھی ہو چکا ہو تو انہیں چاہیئے جلد از جلد مذکور لڑکے، لڑکی کی رخصتی کا انتظام کریں۔
كما في الدر المختار: (هو) عند الفقهاء (عقد يفيد ملك المتعة) أي حل استمتاع الرجل من امرأة لم يمنع من نكاحها مانع شرعي۔اھ (3/ 3)
وفي بدائع الصنائع: وهو اختصاص الزوج بمنافع بضعها وسائر أعضائها استمتاعا أو ملك الذات والنفس في حق التمتع على اختلاف مشايخنا في ذلك۔اھ (1/ 298)
وفي الأشباه والنظائر: درء المفاسد أولى من جلب المصالح. فإذا تعارضت مفسدة ومصلحة قدم دفع المفسدة غالبا۔اھ (1/ 78)