میرے طلاق کے کاغذات آنے والے ہیں، پر مسئلہ یہ ہے کہ میں نوکری کرتی ہوں، اور میں امی ابو کے ساتھ رہتی ہوں ، میرےعلاوہ کوئی کمانے والا نہیں ہے گھر میں ، ابو بے روز گار ہے ، بھائی ایک ہی ہے ، جو اپنی بیوی بچے پال رہا ہے ، تو کیا میں شرعی پردے کےساتھ نوکری جاری رکھ سکتی ہوں ، میری رہنمائی فرمائیں۔
سائلہ نے یہ نہیں لکھا کہ اس کے شوہر نے اس کو طلاق دیدی ہے یا طلاق تو ابھی نہیں دی مگر دینے والا ہے ، بہر حال اگر طلاق دی ہو تو اس کے الفاظ کیا ہیں تاہم اگر سائلہ کے شوہر نے تین طلاقیں دیکر اسکو فارغ کر دیا ہو یا آئندہ کر دے اور دورانِ عدت شوہرنفقہ کی ذمہ داری بھی نہ لے اور دوسرا کوئی عزیز رشتہ دار بھی نفقہ کی ذمہ داری نہ لیتا ہو تو سائلہ کو بمجبوری دوران عدت کوئی بھی جائز کام کیلئے نکلنا جائز اور درست ہے ، مگر رات ہونے سے پہلے اپنے گھر لوٹنا لازم ہو گا۔
کمافی الدرالمختار: (وتعتدان) أي معتدة طلاق وموت (في بيت وجبت فيه) ولا يخرجان منه (إلا أن تخرج أو يتهدم المنزل، أو تخاف) انهدامه، أو (تلف مالها، أو لا تجد كراء البيت) ونحو ذلك من الضرورات فتخرج لأقرب موضع إليه اھ(3/536)-
وفی ردالمحتار: قال في الفتح: والحاصل أن مدار حل خروجها بسبب قيام شغل المعيشة فيتقدر بقدره، فمتى انقضت حاجتها لا يحل لها بعد ذلك صرف الزمان خارج بيتها. اهـ. وبهذا اندفع قول البحر إن الظاهر من كلامهم جواز خروج المعتدة عن وفاة نهارا ولو كان عندها نفقة، وإلا لقالوا لا تخرج المعتدة عن طلاق، أو موت إلا لضرورة فإن المطلقة تخرج للضرورة ليلا، أو نهارا اهـ. ووجه الدفع أن معتدة الموت لما كانت في العادة محتاجة إلى الخروج لأجل أن تكتسب للنفقة قالوا: إنها تخرج في النهار وبعض الليل، بخلاف المطلقة. وأما الخروج للضرورة فلا فرق فيه بينهما كما نصوا عليه فيما يأتي، فالمراد به هنا غير الضرورة، ولهذا بعدما أطلق في كافي الحاكم منع خروج المطلقة قال: والمتوفي عنها زوجها تخرج بالنهار لحاجتها ولا تبيت في غير منزلها، فهذا صريح في الفرق بينهما، نعم عبارة المتون يوهم ظاهرها ما قاله في البحر، فلو قيدوا خروجها بالحاجة كما فعل في الكافي لكان أظهر.اھ(3/536)-
بیوی کا پانچ سال شوہر سے علیحدہ رہنے کےبعد طلاق ہو جانے کی صورت میں عدت گرازنا لازم ہے؟
یونیکوڈ احکام عدت 0