(1) اگر دانتوں میں غذا ، گوشت کی بوٹی یا چھالیہ پھنسی ہوئی ہو ، تو کیا ایسی صورت میں غسل ہوجائے گا یا نہیں؟ (2) اگر ناخنوں میں میل ہو تو کیا غسل ہوجائے گا؟ (3) زبان پر پیلے رنگ کی تہہ آجاتی ہے تو کیا غسل ہوجائے گا یا نہیں؟
اگر دانتوں کے درمیان موجود خلا میں کوئی غذا وغیرہ اتنی مقدار میں پھنسی ہو ، جو پانی کو دانتوں تک پہنچنے سے روکے ، تو ایسی صورت میں اس کو ہٹائے بغیر غسل درست نہ ہوگا ، البتہ اگر اتنی کم غذا پھنسی ہو جو پانی کے لئے مانع نہ ہو یا ناخنوں میں کوئی میل کچیل جمع ہوگئی ہو یا زبان پر پیلے رنگ کی تہہ آگئی ہو اور ایسی صورت میں دانتوں سے غذا یا ناخنوں سے میل کچیل یا زبان سے پیلا رنگ صاف کیے بغیر اگر فرض غسل کیا جائے تو ایسی صورت میں اگرچہ فرضِ غسل ادا ہوجاتا ہے ، مگر بہتر اور افضل یہ ہے کہ دانتوں سے غذا ، ناخنوں سے میل کچیل اور زبان سے پیلا رنگ صاف کرکے غسل کیا جائے ۔
کما فی الدر المختار : (و لا يمنع) الطهارة (و نيم) أي خرء ذباب و برغوث لم يصل الماء تحته (و حناء) و لو جرمه به يفتى (و درن و وسخ) عطف تفسير و كذا دهن و دسومة (و تراب) و طين و لو (في ظفر مطلقا) أي قرويا أو مدنيا في الأصح بخلاف نحو عجين (و) لا يمنع (ما على ظفر صباغ و) لا (طعام بين أسنانه) أو في سنه المجوف به يفتى و قيل إن صلبا منع و هو الأصح اھ (1/154)۔