السلام عليكم ورحمۃالله ! جناب میرا نام محمد عمر ہے ،اور میرا تعلق پنجاب کے ضلع گجرات کے دہی علاقہ سے ہے، جہاں پر ایک پرائیویٹ سکول میں طالب علم بینچوں پر تعلیم حاصل کرتے ہیں،لیکن ان کے بستے (بیگ ) کلاس روم میں زمین پر پڑے ہوتے ہیں اور سکول کی فیس نہایت کم ہے جس کے باعث وہ طالب علموں کو بیگ رکھنے کے لیے ڈیسک فراہم نہیں کرسکتے، مگر طالب علموں کے بیگ کے اندر اسلامیات کی کتاب بھی موجود ہوتی ہے، لیکن کتاب براہ راست زمین پرنہیں ہوتی ،میرا سوال یہ ہے کہ اس صورت میں کسی قسم کی بے ادبی یا گستاخی سرزد تو نہیں ہور ہی ،کیوں کہ ماضی میں یا اب بھی پسماندہ علاقوں میں طالب علم نیچے ٹا ٹوں پر بیٹھ کر پڑ ھتے ہیں ،براہ مہربانی اس معاملے میں رہنمائی فرمادیں ۔
مذکور ادارے میں اگر طلبہ کی کتابوں کیلئے ڈیسک وغیرہ کا بندوبست نہیں ہو پار ہاتو کتابوں کو ادب کے ساتھ بیگ میں رکھ کر زمین پر رکھنے کی بھی گنجائش ہے، تاہم ادب یہ ہے کہ دینی کتابوں کو دیگر فنی کتب کے اوپر رکھا جائے۔
كما في الهندية :وإذا كتب اسم الله تعالى على كاغذ ووضع تحت طنفسة. يجلسون عليها فقد قيل یكرہ وقيل لا يكره وقال ألا ترى أنه لو وضع في البيت لا بأس بالنوم على سطح كذا هاهنا كذا في المحيط (ج ۵ ص ۳۲۶)
وفيها أيضاً والكلام فوق ذلك والفقة فوق ذلك والأخبار والمواعظ والدعوات المرویة فوق ذلك والتفسير فوق ذلك والتفسير الذي فيه آيات مكتوبة فوق كتب القراء حانوت أو نانوت فيه كتب فالأدب أن لا يضع الثیاب فوقة (ج۵ ص (۳۲۴)
وفيها ايضا إذا كان للرجل، وفيها دراهم مكتوب فيها شيء من.القرآن أو کان في الجوالق كتب الفقه أو كتب التفسير أو المصحف فجلس عليها أو نام، فإن کان من قصده الحفظ فلا بأس به. كذا في الذخيرة (ج ۵ ص ۳۲۱)۔ واللہ اعلم بالصواب
موبائل میں گانے بھرے ہوئے ہوں تو اس میں تلاوت بھروا سکتے ہیں یا نہیں؟
یونیکوڈ قرآن و حدیث کے آداب و احکام 0