میں نے ،جب حج دولا کھ اسی ہزار کا تھا کوشش کی ، نام نہ آیا ،پچھلے سال جب چار لاکھ چھتیس ہزار کا تھا تب بھی کوشش کی نام نہ آیا، اب چار لاکھ نوے ہزار کا ہو گیا ہے جو بہت زیادہ مہنگا ہے، اگر میں سب جمع پونجی اکٹھی کروں تو جاسکتا ہوں لیکن پھر مہنگائی اور واپس آکر خرچہ کا سوچتا ہوں کہ کیا بنے گا، پوچھنا یہ تھا کہ حج ایک بار فرض ہو گیا ہے لیکن مہنگائی ہے تو کیا مجھے حج کرنالازمی ہو گا ؟جب سستا تھا میں نے کوشش کی تھی اب بہت مہنگا ہو گیا ہے کیا کروں؟
جب صاحب ِاستطاعت ہونے کی وجہ سے حج ایک بار فرض ہو گیا تو اسکی ادائیگی لازم ہے ،چاہے اس سال کرے یا آئندہ کسی سال میں۔
كما فی الدر المختار : ( على الفور ) في العام الأول عند الثاني وأصح الروايتين عن الإمام ومالك وأحمد فيفسق وترد شهادته بتأخيره أي سنينا لأن تأخيره صغيرة وبارتكابه مرة لا يفسق إلا بالإصرار بحر ووجهه أن الفورية ظنية لأن دليل الاحتياط ظني، ولذا أجمعوا أنه لو تراخى كان أداء وإن أثم بموته قبله قالو لولم يحج حتى اتلف ماله وسعه ان يستقرض ويحجولو غير قادر على وفائه ان لا يؤاخذه الله على ذالک اھ (456/2) –