نکاح

دو شادیاں کرنے سے متعلق ایک صورت کا حکم

فتوی نمبر :
38248
| تاریخ :
معاملات / احکام نکاح / نکاح

دو شادیاں کرنے سے متعلق ایک صورت کا حکم

السلام علیکم!
گذارش ہے کہ میرا نام امیر بخش ہے، میری منگنی میرے گھر والوں نے خالہ کی بیٹی سے کروائی جسے میں ذاتی طور پر پسند نہیں کرتا، اور میری ایک اور منگنی میرے ماموں نے کروائی ہے تین سال پہلے، جو مجھے پسند ہے، اب مسئلہ یہ ہے کہ میں اگر خالہ کی بیٹی سے شادی نہیں کرتا تو وہ میرے ماموں زاد بھائی اور بہنوں کو رشتہ نہیں دے گی، میرے گھر والے چاہتے ہیں میں دو شادیاں کروں تو کیا مجبوری میں جو میر انکاح واقع ہو گا تو وہ درست ہو گا جبکہ میں جانتا ہوں کہ میں دونوں میں برابری نہیں کر سکتا، میری رہنمائی فرمائیں، آپ کے جواب کا انتظار رہے گا۔ جزاک اللہ خیراً

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائل کو اولاً چاہئے کہ دونوں منگیتروں سے نکاح و شادی کر کے دونوں کے ساتھ زندگی بسر کرنے کی کوشش کرے، اگر یہ ممکن نہ ہو، دونوں کے نان و نفقہ پر قدرت نہ ہونے کی وجہ سے یا دونوں میں ظاہری برتاؤ کے لحاظ سے برابری نہ کر سکنے کی وجہ سے تو والدین اور رشتہ داروں کو اعتماد میں لے کر ایک کے ساتھ شادی کرے اور دوسری کو چھوڑ دے، ایسانہ کرے کہ رشتہ داروں کے کہنے کی وجہ سے دونوں سے شادی کر کے دونوں یا کسی ایک کوحقوق سے محروم کر کے پریشان کرے کیونکہ یہ سخت گناہ کی بات ہے جس پر بروز قیامت سخت مؤاخذہ ہوگا ۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في السنن لأبي داود: عن أبي هريرة، عن النبي ﷺ قال: من كانت له امرأتان فمال إلى إحداهما، جاءيوم القيامة وشقه مائل۔الحدیث (2/242)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 38248کی تصدیق کریں
0     508
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات