احکام حج

کیا چوتھے دن کی کنکری مارنے سے کبیرہ گناہ معاف ہوجاتے ہیں ؟

فتوی نمبر :
38069
| تاریخ :
2019-08-25
عبادات / حج و عمرہ / احکام حج

کیا چوتھے دن کی کنکری مارنے سے کبیرہ گناہ معاف ہوجاتے ہیں ؟

السلام علیکم ! مفتی صاحب میں حج کے چوتھے دن کی کنکری کے بارے میں آپ سے رائے لینا چاہتا ہوں ، آجکل کافی لوگوں کو دیکھاہے جو حج پر جاتے ہیں ، اور چوتھے دن کی کنکری بھی مارتے ہیں ، اور ساتھ کہتے ہیں کہ چوتھے دن کی کنکری مارنے سے کبیرہ گناہ بھی معاف ہو جاتے ہیں ،کیا اس بات میں کوئی صداقت ہے ؟ برائے کرم حج کے چوتھے دن کی کنکری کے بارے میں بتائیں کہ شریعت میں اسکا کیاحکم ہے ؟اللہ آپ کو جزائے خیر عطاء کرے!

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

حج کے چوتھے دن کی کنکریاں مارنا مستحب ہے ، واجب نہیں، لہذا اگر کوئی شخص 12 ذی الحجہ کی رمی کے بعد منی سے واپسی کا ارادہ کرے، تو اسپر تیرھویں ذی الحجہ کی رمی لازم نہیں ، البتہ اگر کوئی شخص 12 ذی الحجہ کو رمی کرنے کے بعد منی میں رُک جائے اور رات وہیں گزارے، تو ایسے شخص پر 13 ذی الحجہ کو بھی رمی کرنا لازم ہو جائے گا ، مگر اس چوتھے دن کی رمی سے کبیرہ گناہ معاف ہونے والی بات ہماری نظرسے نہیں گزری، دوسرے اہل علم سے بھی مراجعت کی جائے ، تو بہتر ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کمافی الہندیة : فإذا كان منی لغد وهو اليوم الثالث من يوم النحر يرمي الجمار الثلاث كذلك حين تزول الشمس ثم ينفر إن أحب في يومه ذلك ويسقط عنه الرمي في اليوم الرابع، وإن أحب أن يمكث هناك تلك الليلة فمكث حتى طلع الفجر لا يمكنه أن ينفر في هذا اليوم حتى يرمي بعد الزوال كذلك كذا في فتاوى قاضي خان اھ (1/ 223)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 38069کی تصدیق کریں
0     443
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات