ہم نے اس سال حج کیا،ہماری رہائش منی میں نہیں تھی، بلکہ مزدلفہ کی حدود میں تھی، توہمیں کہا گیا کہ طوافِ زیارت کے بعد آپ جمرات کو کنکریاں مارنے کےبعد اپنی رہائش گاہ جو کہ منیٰ کے قریب" غسالہ" نامی علاقہ میں ہے وہاں سے بھی آسکتے ہیں،تو ہم اپنی رہائش گاہ سے جمرات کو کنکریاں مارنے جاتے تھے ؟ کیا ایسا کرنے سےہمارے حج پر اثر پڑا،یعنی حج درست ہے یا نہیں ؟ دم واجب ہو ا ؟
جمرات کی رمی کے دوران راتوں کو منیٰ میں قیام کرنا مسنون ہے ، بلا عذر کسی دوسری جگہ یا اپنی رہائش گاہ میں قیام کرنا مکروہ ہے ، مگر یہ جنایت نہیں ، اس لیے اس پر دم یا کفارہ بھی نہیں۔
فی غنية الناسك: ويسن ان يبيت بمنى ليالى ايام الرمي فلو بات بغير هامتعمداً كره ولاشئ عليه عندنا اھ (95) –