میں نے اپنی والدہ کے اصرار پر جبکہ والدہ کو ان کے بھائی تنگ کر رہے تھے کہ ہماری بیٹی کے ہوتے ہوئے باہر سے رشتہ کیوں کر رہے ہو، میں نے اسی اصرار پر کہ والدہ ناراض نہ ہوں اپنے ماموں کی بیٹی سے شادی کر لی ، حالانکہ میرا دل بالکل نہیں چاہ رہا تھا، اب جبکہ میری شادی بھی ہو گئی ہے، میری اپنی بیوی یعنی (ماموں کی بیٹی) میں بالکل دل نہیں لگتا ، اب چھوڑنے سے بھی ڈرتا ہوں کہ خاندان خراب ہو جائیگا والدہ بھی بہت ناراض ہوں گی، برائے مہربانی رہنمائی فرمائیں۔
سائل کی بیوی جو کہ اس کی کزن بھی ہے اگر اس میں کوئی عیب نہ ہو صرف پسند نا پسند کی بات ہو تو سائل کو اپنی پسند والدین کی پسند پر فنا کر نا چاہئے ان شاء اللہ اس میں خیر و عافیت ہو گی ورنہ سوال کی مکمل وضاحت کر کے دوبارہ حکم شرعی معلوم کر سکتے ہیں۔
ففي سنن الترمذي: عن عبد الله بن عمرو، عن النبي [ص:311] صلى الله عليه وسلم قال: «رضى الرب في رضى الوالد، وسخط الرب في سخط الوالد» اھ (4/ 310) والله اعلم بالصواب