جھگڑوں کے دوران میری بیوی مجھے "فرعون" کہہ کر پکارتی ہے، ( جو کہ موسیٰ علیہ السلام کے دور میں تھا)۔ ایک ایسے ہی جھگڑے کے دوران جبکہ وہ بعض امور کے بارے میں شکایت کر رہی تھی اور چاہتی تھی کہ میں اس کے واسطے کچھ کروں، اور مجھے ’’فرعون “ کہہ کر پکار بھی رہی تھی تو میں نے اس کو یہ جواب دیا کہ ’’فرعون کی بیوی اپنے مسائل کے حل کے لیے اس کے پاس نہیں جاتی تھی‘‘۔ میرا یہ کہنا مجھے دائرہ اسلام سے خارج تو نہیں کر دے گا؟
میری بیوی مجھے منع کرتی ہے ان ویڈیوز کے چلانے سے جو کہ انٹر نیٹ پر بچوں کی تعلیم کی غرض سے ڈالی گئی ہوتی ہیں، کیونکہ اس میں میوزک یا بعض غیر اسلامی تصورات کی آمیزش ہوتی ہے جیسا کہ کر سمس و غیر ہ۔ مگر میں کبھی کبھار انہیں چلا لیتا ہوں۔ اسی طرح وہ مجھے فیملی کے مسائل کے بارے میں اسلامی ہدایات سے بھی آگاہ کرتی رہتی ہے، اور ان ہدایات سے بھی جن کا تعلق مالی معاملات سے ہو یا اس بات سے کہ اسلامی طرز زندگی کو عام حالات میں کس طرح اپنایا جاتا ہے۔ مگر بعض اوقات میں اس کی باتوں سے اتفاق نہیں کرتا، ان معلومات کی بناء پر جو مجھے دین کے بارے میں اور مذکورہ امور کے بارے میں حاصل ہیں۔ اور جھگڑے کی گرما گرمی کے دوران اگر وہ اس قسم کی کوئی بات کرتی کہ " ایسا کرنے سے جہنم میں چلے جاؤ گے " ۔ اور میرا دل یہ بات جان رہا ہوتا ہے کہ میں جو کہہ رہا ہوں وہ بھی قرآن اور حدیث ہی کی بنیاد پر کہہ رہا ہوں۔ میں جواب دیتا ہوں کہ ”تو چلا جاؤں گا جہنم میں‘‘۔ میرے دل میں ان باتوں کے کہنے سے باوجود ان پر یقین ہونے کے ، صرف جھگڑا ختم کرنا مقصد ہوتا ہے۔ مجھے معلوم ہے کہ ان باتوں کو نہ کہنا ہی بہتر تھا، مگر بعض اوقات ہو ہی جاتا ہے۔ کیا میں ان باتوں کی وجہ سے دائرہ اسلام سے خارج ہو گیا ہوں ؟ میں ایک با عمل مسلمان ہوں ( نماز ، ڈاڑھی ، روزہ، حج، زکوۃ وغیرہ ) ، اور میری بیوی بھی با عمل مسلمان ( زیادہ اہتمام کرنے والی) ہے۔
بیوی کے ساتھ مکالمہ کے دوران سائل کا یہ کہنا کہ ’’فرعون کی بیوی اپنے مسائل کے حل کے لیے اس کے پاس نہیں جاتی تھی“ کفر یہ جملہ نہیں ہے ، اس لئے مذکورہ جملہ کہنے سے اور اسی طرح اس کے بعد اپنے آپ کو حق پر سمجھتے ہوئے بیوی کو خاموش کرانے اور جھگڑے کو ختم کرنے کی غرض سے یہ کہنے سے کہ ’’تو چلا جاؤں گا جہنم میں“ اس کے ایمان پر تو کوئی اثر نہیں پڑا، اور دونوں حسب سابق میاں بیوی کی طرح زندگی بسر کر سکتے ہیں۔ مگر زوجین کے درمیان چھوٹی موٹی باتوں پر بحث و مباحثہ مناسب نہیں، اسی طرح سائل کی بیوی کا سائل کو فرعون کہہ کر پکارنا انتہائی نامناسب اور بے ادبی پر مبنی عمل ہے ، جس کی وجہ سے وہ سخت گناہ گار ہو رہی ہے۔ اس پر لازم ہے کہ اپنے خاوند کے لیے اس قسم کے جملے استعمال کرنے سے احتراز کرے۔
غصہ میں قرآنِ کریم زمین پر پٹخنے کا حکم، اور حالت حیض زبردستی پیچھے کے راستہ صحبت کرنے کا حکم
یونیکوڈ ایمان 7امام ابو حنیفہ کے نظریے کہ" ایمان تصدیقِ قلبی کا نام ہے"کی وجہ سے ان پر فرقہ مرجئہ میں سے ہونے کا الزام
یونیکوڈ ایمان 1اگر کسی شخص تک نبی آخر الزمان کی خبر نہ پہنچی ہو تو کیا وہ گناہ گار ہوگا؟اور جس کی قسمت میں ہدایت نہ ہو وہ کیوں گناہ گار ہوگا؟
یونیکوڈ ایمان 1اللہ تعالیٰ ہربندہ مؤمن کے دل میں موجود ہیں کا مطلب اور اچھی یا بری سوچ اللہ کی طرف سے ہونے کا مطلب
یونیکوڈ ایمان 1