نکاح

غیر سنی لڑکی سے نکاح کا حکم

فتوی نمبر :
36649
| تاریخ :
معاملات / احکام نکاح / نکاح

غیر سنی لڑکی سے نکاح کا حکم

سنی لڑکے کا شیعہ لڑکی سے شادی کرنے کا درست طریقہ کیا ہے، تفصیل مسئلہ یوں ہے کہ میں ایک سنی لڑکا ہوں اور ایک شیعہ لڑکی کو تقریباً تین سال سے جانتا ہوں ، اور میں چاہتا ہوں کہ اس سے شادی کروں ، میں نے آپ کے فتاویٰ فہرست میں درج سب فتاوی پڑھ لئے جو اس سے متعلق تھے کہ میں کیا کروں؟ اور میں نے آپ حضرات کا ایک مسئلہ سیریل نمبر 4585 دیکھا جو کہ لف ہے اس میں یہ بات آپ نے ظاہر فرمائی تھی کہ شیعہ لوگ کافر ، فاسق اور فاجر قرار دیے گئے ہیں، اس کو پڑھنے کے بعد میں اس لڑکی سے بات کی اور ہر سوال کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے مجھے کوئی بھی جواب ایسا نہیں دیا جو اس کے عقائد کے بارے میں شبہ کرتا ہو، اور وہ اس وقت کچھ پریشان ہوگئی ،اس کے بعد میں نے اس کو اس بارے میں بھی بتایا اور سب امور کے متعلق ہمارے عقائد تقریباً یکساں تھے ، ابھی میرا سوال یہ ہے کہ میں اپنے والدین کے ساتھ شادی کے متعلق بات کرنا چاہتا ہوں اور آپ کی راہنمائی کا منتظر ہوں کہ آپ اچھی راہ کی نشاندہی کریں ، اور کیا اس معاملہ میں کہ میں نکاح کروں سنی عالم کے علاوہ پر بھروسہ رکھ سکتا ہوں؟ اور کیا شیعہ عالم پر اس بارے میں بھروسہ کیا جا سکتا ہے ؟ اور کیا اس کے والدین کا سنی ہونا بھی ضروری ہے یا پھر صرف اس کا سنی ہونا کافی ہے، آخری چیز یہ کہ میں یہ بھی ظاہر کروں کہ اس (لڑکی) نے یہ حامی بھر لی ہے کہ وہ سنی عقائد کو پڑھ کر اسے اپنے لئے راہ نجات کے طور پر اختیار کرے گی ، لیکن انہوں نے مجھ سے درخوست کی ہے کہ یہ بات میرے والدین کے سامنے ظاہر نہ کی جائے اور وہ اس بات کو خفیہ رکھنا چاہتی ہے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائل جس لڑکی سے شادی کرنا چاہتا ہے اگر وہ کفریہ عقائد نہ رکھتی ہویا وہ اپنے کفریہ عقائد سے توبہ تائب ہو کر اعلانیہ مسلمان ہو جائے ، سائل اور اس کی برادری کو بھی اس کے قبول اسلام پر اعتماد ہو محض شادی کے لئے وہ اپنے مذہب کو نہ چھوڑ رہی ہو تو ایسی صورت میں اس لڑکی کے ساتھ اس کے والدین کی اجازت کے ساتھ شادی کرنے میں حرج نہیں، ور نہ کسی سنی مسلمان لڑکی کے ساتھ شادی کرنے کا اہتمام کرنا چاہیے، تاکہ آنے والی نسل خراب نہ ہو، جبکہ اس سلسلہ میں کسی شیعہ عالم سے راہنمائی لینے کے بجائے کسی سنی عالم دین سے مشورہ لینا ضروری ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

قال الله تبارك وتعالى : {وَلَا تَنْكِحُوا الْمُشْرِكَاتِ حَتَّى يُؤْمِنَّ وَلَأَمَةٌ مُؤْمِنَةٌ خَيْرٌ مِنْ مُشْرِكَةٍ وَلَوْ أَعْجَبَتْكُمْ وَلَا تُنْكِحُوا الْمُشْرِكِينَ حَتَّى يُؤْمِنُوا وَلَعَبْدٌ مُؤْمِنٌ خَيْرٌ مِنْ مُشْرِكٍ وَلَوْ أَعْجَبَكُمْ } [البقرة: 221]
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): نعم لا شك في تكفير من قذف السيدة عائشة - رضي الله تعالى عنها - أو أنكر صحبة الصديق، أو اعتقد الألوهية في علي أو أن جبريل غلط في الوحي، أو نحو ذلك من الكفر الصريح المخالف للقرآن اھ (4/ 237)
وفيه ايضاً : وإن كان يفضل عليا عليهما فهو مبتدع. اھ. (4/ 237)
و في بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع: ومنها إسلام الرجل إذا كانت المرأة مسلمة فلا يجوز إنكاح المؤمنة الكافر؛ لقوله تعالى: {ولا تنكحوا المشركين حتى يؤمنوا} [البقرة: 221] ولأن في إنكاح المؤمنة الكافر خوف وقوع المؤمنة في الكفر؛ لأن الزوج يدعوها إلى دينه، والنساء في العادات يتبعن الرجال فيما يؤثرون من الأفعال ويقلدونهم في الدين إليه اھ (2/ 271)
وقال الله تعالى : {وَإِذَا رَأَيْتَ الَّذِينَ يَخُوضُونَ فِي آيَاتِنَا فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ حَتَّى يَخُوضُوا فِي حَدِيثٍ غَيْرِهِ } [الأنعام: 68]
وقال اللہ تعالى : {وَذَرِ الَّذِينَ اتَّخَذُوا دِينَهُمْ لَعِبًا وَلَهْوًا وَغَرَّتْهُمُ الْحَيَاةُ الدُّنْيَا } [الأنعام: 70] والله أعلم بالصواب

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 36649کی تصدیق کریں
0     7
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات