نکاح

گواہوں کی موجودگی میں ایجاب و قبول کے بغیر صرف قبول ہے کہنے سے نکاح کا حکم

فتوی نمبر :
36371
| تاریخ :
معاملات / احکام نکاح / نکاح

گواہوں کی موجودگی میں ایجاب و قبول کے بغیر صرف قبول ہے کہنے سے نکاح کا حکم

ميری منگنی ہو گئی ہے، ایک دن میں ایک تقریب میں گیا تھا، وہاں وہ بھی تھی ،اسکا اور میر آمنا سامنا ہوا اور دوسری زائد عورتیں اور مرد تھے، میں نے پوچھا قبول ہے، تو اس نےہنس دیا ،تو کیا نکاح ہو جائے گا ؟ وہ عاقلہ بالغہ ہے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائل کا اپنی منگیتر سے سوال کرنے پر اس کے ہنس دینے کو نکاح سمجھنا غلط ہے بلکہ صحتِ نکاح کیلئے دو گواہوں کی موجودگی میں فریقین کا باقاعدہ ایجاب و قبول کرنا اور گواہوں کا ایجاب و قبول کے الفاظ کا سننا شرط ہے جو صورتِ مسئولہ میں مفقود ہے ، اس لئے یہ نکاح شرعاً منعقد نہیں ہوا ۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار: (فلا ينعقد) بقبول بالفعل (وفی رد المحتار تحت قوله) تفريع على ما تقدم من انعقاده بلفظ إلخ ح (قوله: كقبض مهر) قال في البحر: وهل يكون القبول بالفعل كالقبول باللفظ كما في البيع؟ قال في البزازية أجاب صاحب البداية في امرأة زوجت نفسها بألف من رجل عند الشهود، فلم يقل الزوج شيئا لكن أعطاها المهر في المجلس أنه يكون قبولا، وأنكره صاحب المحيط وقال الإمام ما لم يقل بلسانه قبلت اھ (3/ 12)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 36371کی تصدیق کریں
0     601
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات