السلام علیکم ورحمۃ الله !
قبلہ مفتی صاحب، ہماری ایک بچی ہے جو حافظہ، عالمہ، صالحہ اور اعلی تعلیم یافتہ ہے، اس نے خواب میں رسول اللہ ﷺ کا دیدار کیا، رسول اللہ ﷺ نے ایک ایسے عالم دین جو ہمارا کفؤ ہے اس کے بارے میں فرمایا کہ یہ میرا حمزہ ہے، اس کا خیال رکھنا اور ایک بار اس عالم دین سے شادی کرنے کا حکم ارشاد فرمایا ہے، اور اسی نکاح کی بشارت دی اور تصدیق فرمائی ایک شیخ الحدیث با عمل عالم دین نے کہ رسول اکرم ﷺنے مجھےان کے نکاح کا حکم دیا ہے تو شرعاً اس کی کیا حیثیت ہے؟
سوال میں مذکور خواب اگر واقعۃً درست اور حقیقت پر مبنی ہو اور مذکور عالم دین لڑکی کا کفؤ اور ہم پلہ بھی ہو تو مذ کو ر بچی کا نکاح اس عالم دین سے کرنے میں کوئی حرج نہیں، تاہم خواب کوئی شرعی حجت اور حکم کا درجہ نہیں رکھتا، اسلئے اس کو آپ ﷺکا حکم سمجھنا درست نہیں۔
كما في تكملة فتح الملهم: تحت (قوله من رأني في المنام فقد رآني) (إلى قوله) المبحث الثاني: إذا رأى أحد رسول الله في المنام ورآه يخبر أو يا مر بشيء أو ينهى عن شيء هل يكون ذلك حجة شرعية ؟ وأجمع العلماء على أنه ليس بحجة في الدين نعم! إن كان ذلك القول لا يصادم حكما من الأحكام الشرعية يستحسن العمل به أدبا مع صورتهﷺ أو مثالها۔اھ (4/452)
وفي فتح البارى: وكذلك يقال في كلامهﷺ في النوم أنه يعرض على سنته فما وافقها فهو حق وما خالفها فالخلل في سمع الرائي، فرؤيا الذات الكريمة حق والخلل انما هو في سمع الرائي أو بصره، قال: وهذا خير ما سمعته في ذلك۔اھ (12/479)