میرا سوال یہ ہے کہ بیوی کام کرنے والی عورت ہے اور گھر کا کرایہ اور اخراجات بیوی سنبھالتی ہے اور شوہر ایک زمین کی قسط اداکر تا ہے، لڑ ائی میں بیوی نےشوہر کو کہا ’’آپ گھر سے چلے جاؤ گھر کے سارے اخراجات میں سنبھالتی ہوں آپ مجھ سے آزاد ہو‘‘اس صورت میں جو بیوی نے کہا، کیا وہ خلع کے زمرے میں آتاہے اس واقعہ کے بعد بیوی نے اقرار کیا میں نے یہی کہا ہے۔
واضح ہو کہ شرعا طلاق یا خلع کا اختیار مرد کو ہوتا ہے نہ کہ عورت کو لہذا بیوی کے مذکور الفاظ سے خلع نہیں ہوا، اس لئے دونوں حسب سابق میاں بیوی کی طرح زندگی بسر کر سکتے ہیں، تاہم مذکورہ عوت کا اپنے شوہر کے لئے اس طرح توہین آمیز لہجہ اختیار کرنادرست نہیں، جس سےاحتراز لازم ہے۔
کمافی الفقه الحنفی وأدلته: وأما حقیقة الخلع الشرعیة فھو فراق الرجل امراته علی عوض یحصل له اھ(2/ 249)