نکاح

شیعہ لڑکے اور سنی لڑکی کے نکاح کا حکم؟

فتوی نمبر :
35582
| تاریخ :
معاملات / احکام نکاح / نکاح

شیعہ لڑکے اور سنی لڑکی کے نکاح کا حکم؟

جناب میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کیا شیعہ سنی نکاح جائز ہے اس صورت حال میں کہ لڑکا شیعہ ہے اور اس کے عقائد یہ ہیں:
اللہ تعالیٰ کی توحید میں کامل یقین رکھنا اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ سمجھنا (۲) تمام انبیاء علیہم السلام کو اللہ تعالٰی کی بہترین مخلوق ماننا اور نبی علیہ الصلوة والسلام کو اللہ کا محبوب ترین اور آخری نبی ماننا ہے ۔ (۳)قرآن پاک کو اس کی اصل شکل میں ماننا اور اس کی رد و بدل کا قائل نہ ہونا۔ (۴) تمام آسمانی کتابوں پر یقین ہونا ۔ (۵)کسی بھی اصحاب رسول کو برا بھلا نہ کہنا ۔ (۶) آخرت اور قیامت پر یقین ہونا (۷) لڑکے کا شیعوں کی مجالس میں جانا لیکن زنجیر زنی اور خونی ماتم کو منا سب نہ سمجھنا۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ اہل تشیع کے مختلف فرقے ہیں اور ہر فرقہ کے عقائد اور نظریات بھی مختلف ہیں اس لئے شیعوں کو کافر قرار دینے اور ان کے ساتھ مناکحت اختیار کرنے میں بھی تفصیل ہے۔
وہ یہ ہے کہ جس شیعہ کے عقائد اور نظریات یہ ہوں مثلاً حضرت علیؓ کی الوہیت یا قرآن کریم کی تعریف کا قائل ہو یا حضرت جبرائیل علیہ السلام کے وحی لانے میں غلطی کرنے کا عقیدہ رکھتا ہو یا حضرت عائشہ پر لگائی جانے والی تہمت کو سچا مانتا ہو یا حضرت ابو بکر صدیق کی صحابیت کا منکر ہو یا اس قسم کا مخالف قرآن کوئی صریح کفریہ عقیدہ رکھتا ہو تو وہ بلاشبہ کا فر ہے۔ اس کے ساتھ کسی مسلمان سنی العقیدہ لڑکی کا نکاح کرنا جائز نہیں اور یہ نکاح شرعا منعقد بھی نہ ہو گا۔ البتہ جس شخص کے عقائد یہ نہ ہوں ، صرف ماتم کرتا ہو تو اگرچہ وہ کافر نہیں، مگر سنی العقیدہ لڑکی سے اس کا نکاح باہم کفؤ نہ ہونے کہ وجہ سے اولیاء کی اجازت کے بغیر درست نہیں۔

مأخَذُ الفَتوی

كما قال الله تعالى: {وَلَا تَنْكِحُوا الْمُشْرِكَاتِ حَتَّى يُؤْمِنَّ وَلَأَمَةٌ مُؤْمِنَةٌ خَيْرٌ مِنْ مُشْرِكَةٍ وَلَوْ أَعْجَبَتْكُمْ وَلَا تُنْكِحُوا الْمُشْرِكِينَ حَتَّى يُؤْمِنُوا وَلَعَبْدٌ مُؤْمِنٌ خَيْرٌ مِنْ مُشْرِكٍ وَلَوْ أَعْجَبَكُمْ } [البقرة: 221]
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): نعم لا شك في تكفير من قذف السيدة عائشة - رضي الله تعالى عنها - أو أنكر صحبة الصديق، أو اعتقد الألوهية في علي أو أن جبريل غلط في الوحي، أو نحو ذلك من الكفر الصريح المخالف للقرآن اھ (4/ 237)
وفيه ايضاً : وإن كان يفضل عليا عليهما فهو مبتدع. اهـ. (4/ 237) والله اعلم بالصواب

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 35582کی تصدیق کریں
0     9
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات