نکاح

عدت ختم ہونے کے بعد عقدِ ثانی کا حکم

فتوی نمبر :
35158
| تاریخ :
معاملات / احکام نکاح / نکاح

عدت ختم ہونے کے بعد عقدِ ثانی کا حکم

میرا نام ملیحہ نسیم ہے اور میں پیشہ سے ڈاکٹر ہوں ، میرے شوہر سید طٰہٰ علی نے مجھے طلاق دی جب میں آٹھ مہینے کی حاملہ تھی , طلاق کا لفظ ایک مرتبہ کہا ”میں تمہیں طلاق دیتا ہوں“ پھر اس نے اپنی والدہ کو بتایا کہ اما ں میں نے اسے طلاق دیدی ہے پھر اس حالت میں مجھے اسکی والدہ نے گھر چھوڑنے پر مجبور کیا، اس کے بعد اس نے مجھ سے کوئی بھی تعلق جاری نہیں رکھا، پھر میں نے چھ ہفتے بعد ایک بچے کو جنم دیا، اگر وہ مجھ سے دوبارہ نکاح نہیں کرنا چاہتا تو کیا میں آزاد ہوں ، کیا از روئے شرع میں دوسری جگہ نکاح کر سکتی ہوں اس مسئلے میں میری رہنمائی کریں۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائلہ کا بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو اس میں کسی قسم کی غلط بیانی سے کام نہ لیا گیا ہو اس طور پر کہ سائلہ کو اس کے شوہر نے فقط ایک مرتبہ مذکور الفاظ ”میں طلاق دیتا ہوں“ کہے ہوں اسکے بعد مزید طلاق دینے کی نیت کےبغیر فقط اپنی والدہ کوطلاق کی اطلاع اور خبر دینے کیلئے یہ الفاظ دہرائے ہوں تو اس سے سائلہ پر پہلی ایک طلاقِ رجعی واقع ہو چکی ہے ، جس کے بعد شوہر کو عدت کے اندر رجوع کرنے کا اختیار حاصل تھا ، لیکن اس نے واقعۃً رجوع نہ کیا ہو ، تو اس وضع حمل ( بچے کی پیدائش ) سے سائلہ کی عدت ختم ہوچکی ہے ، اب سائلہ کسی بھی دوسری جگہ اپنا عقدِ نکاح کرنے میں آزاد ہے، اور اگر سائلہ اور اس کا شوہر دوبارہ باہمی رضامندی سے ایک ساتھ رہنا چاہیں تو اسکے لئے گواہوں کی موجودگی میں نئے حق مہر کے تقرر کے ساتھ دوبارہ عقدِ نکاح کرنا لازم ہے، مگر اس نکاح کے بعد آئندہ کے لئے سائلہ کے شوہر کے پاس فقط دو (۲) طلاقوں کا اختیار باقی رہیگا۔

مأخَذُ الفَتوی

کمافی الفقه الاسلامی :الرجعة نوعان: رجعة من طلاق رجعي، ورجعة من طلاق بائن. (الی قوله) فإذا انقضت عدتها، صارت رجعتها كالرجعة من الطلاق البائن، ويحتاج في ذلك مايحتاج في إنشاء الزواج من إذن المرأة وبذل صداق لها وعقد وليها عند الجمهور اھ(7/462)
وفی الدرالمختار: (قوله: وضع حملها) أي بلا تقدير بمدة سواء ولدت بعد الطلاق، أو الموت بيوم، أو أقل جوهرة، والمراد به الحمل الذي استبان بعض خلقه، أو كله، فإن لم يستبن بعضه لم تنقض العدة لأن الحمل اسم لنطفة متغيرة، فإذا كان مضغة، أو علقة لم تتغير، فلا يعرف كونها متغيرة بيقين إلا باستبانة بعض الخلق بحر عن المحيط (3/511)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 35158کی تصدیق کریں
0     796
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات