السلام علیکم! حجِ تمتّع کرنے والے کے پاس قربانی کی استطاعت نہیں، وہ کتنے روزے رکھے اور کس ترتیب سے رکھے ؟کیا حج سے قبل بھی روزے رکھ سکتا ہے ؟
حجِ تمتع کرنے والے شخص کو اگر بطورِ دمِ تمتع جانور ذبح کرنے کی استطاعت نہ ہو تو اس کے ذمہ دس روزے اس ترتیب سے رکھنا لازم ہے کہ تین روزے یوم النحر (دسویں ذی الحجہ ) سے قبل اور سات روزے حج سے فارغ ہونے کے بعد رکھے، لیکن اگر کسی نے دسویں ذی الحجہ سے قبل تین روزے نہ رکھے تو ایسی صورت میں اس کے ذمہ دمِ تمتع کے طور پر جانور ذبح کرناہی لازم ہو جاتا ہے ، ایسی صورت میں روزے رکھنا کافی نہ ہونگے۔
کما قال اللہ تعالیٰ : فَمَنْ تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ فَمَا اسْتَيْسَرَ مِنَ الْهَدْيِ فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ فی الْحَجِّ وَسَبْعَةٍ إِذَا رَجَعْتُمْ تِلْكَ عَشَرَةٌ كَامِلَةٌ ذَلِكَ لِمَنْ لَمْ يَكُنْ أَهْلُهُ حَاضِرِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَاتَّقُوا اللَّهَ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ (البقرہ /196)۔
و فی الدر المختار : (وإن عجز صام ثلاثة أيام) ولو متفرقة (آخرها يوم عرفة) ندبا رجاء القدرة على الأصل، فبعده لا يجزيه؛ فقول المنح كالبحر بيان للأفضل فیه كلام (وسبعة بعد) تمام أيام (حجه) فرضا أو واجبا اھ (2/533)۔