احکام حج

غریب شخص حج کرنے کے بعد اگر مالدار ہوجائے تو اس پر دوبارہ حج لازم ہوگا؟

فتوی نمبر :
33886
| تاریخ :
2018-04-17
عبادات / حج و عمرہ / احکام حج

غریب شخص حج کرنے کے بعد اگر مالدار ہوجائے تو اس پر دوبارہ حج لازم ہوگا؟

السلام علیکم! کیا فرماتے ہیں علماءِ کرم و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید نے ایک حج تقریباً بیس سال کی عمر میں سن 1986 میں کیا،اس وقت وہ صاحب ِنصاب نہیں تھا ،یہ حج اس کے والد گرامی نے اس کو کر وایا تھا جو کہ سعودی عرب میں ہی مقیم تھے ،اور زید عمرے کے ویزے پر وہاں گیا تھا، اس وقت وہ وہاں رک کر حج کر کے واپس آیا ،اب 2018 میں جبکہ وہ صاحب ِنصاب ہے تو کیا اس پر حج کرنا فرض ہے؟یا 1986 والاحج ہی کافی ہے ؟اگر 1986 والا حج ہی کافی ہے جو اس کے والد نے کرایا تھا ، تو اب وہ دوبارہ کسی اور کی طرف سے اپنے ذاتی پیسوں سے حج کر سکتا ہےیا نہیں ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

زید نے بیس سال کی عمر میں جب ایک مرتبہ فریضہ حج ادا کر لیا اگر چہ اس وقت وہ صاحبِ استطاعت نہیں تھا تب بھی اس سے اس کا فریضۂ حج ادا ہو چکا ہے ، اب مالدار ہونے کے بعد اس پر دوبارہ حج کی ادائیگی لازم نہیں، تاہم اگر وہ اپنی مرضی سے کسی دوسرے شخص کی طرف سے نفل حج کر کے اس کو ثواب پہنچانا چاہتا ہے تو ایسا کرنا بھی جائز ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الرد تحت : (قوله فلا يجوز) أي لا يقع مجزئا عن حجة الأصل بل يقع عن النائب، فله جعل ثوابه للأصل، وسيأتي توضيح ذلك اھ (2/599)۔
و فی الہدایۃ : الحج واجب على الأحرار البالغين العقلاء الأصحاء إذا قدروا على الزاد والراحلة فاصلا عن المسكن وما لا بد منه وعن نفقة عياله إلى حين عوده وكان الطريق آمنا " (الی قوله) " ولا يجب فی العمر الا مرة واحدة " لأنه عليه الصلاة والسلام قيل له الحج فی كل عام أم مرة واحدة فقال " لا بل مرة واحدة فما زاد فهو تطوع اھ (1/232)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 33886کی تصدیق کریں
1     1008
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات