السلام علیکم ! میرا سوال یہ ہے کہ مجھے قطروں کا مسئلہ ہے (مطلب مذی کا ) میں نے بہت علاج کروایا ،لیکن ٹھیک نہیں ہوا ، میرے ساتھ یہ مسئلہ ہے کہ مجھے احتلام کی صحیح سمجھ نہیں آرہی ہے ، مجھے احتلام کی کوئی پہچان بتائیں ،کیونکہ مجھے شرمگاہ کو چیک کرنا پڑتا ہے ، جب صبح کو اٹھتا ہوں تو بلکل معمولی سی چکناہٹ نظر آتی ہے ، دبانےسے منی زیادہ مقدار میں نکلتی ہے؟ میں وسوسہ میں پڑ جاتا ہوں ، کیا غسل کروں یا نہیں؟
احتلام "حلم" سے ہے ،جس کے معنی لذت آفریں خواب کے آتے ہیں ، لہذا نیند سے بیدار ہونے کے بعد اگر سائل کو احتلام یاد ہو اور عضو خاص پر چکناہٹ بھی محسوس ہو رہی ہو یا احتلام تو یاد نہ ہو ،مگر اس چکناہٹ کے متعلق "منی" ہونے کا یقین ہو تو ایسی صورت میں سائل پر غسل لازم ہوگا اور اگر سائل کو احتلام یاد نہ ہو اور عضوِ تناسل کی چکناہٹ کے "منی" ہونے کا یقین بھی نہ ہو ، بلکہ "منی" اور "مذی" ہونے میں شک ہو ، تو ایسی صورت میں اگر سونے سے قبل سائل کے عضو خاص میں انتشار تھا ، تو غسل واجب نہ ہوگا ، ورنہ اس صورت میں بھی غسل لازم ہوگا۔
کما فی الفتاوی الھندیة : و قال القاضي الإمام أبو علي النسفي: ذكر هشام في نوادره عن محمد إذا استيقظ الرجل فوجد البلل في إحليله و لم يتذكر حلما إن كان ذكره منتشرا قبل النوم فلا غسل عليه إلا إن تيقن أنه مني و إن كان ذكره ساكنا قبل النوم فعليه الغسل قال شمس الأئمة الحلواني هذه المسألة يكثر وقوعها و الناس عنها غافلون فيجب أن تحفظ اھ (1/15)۔