السلام علیکم ورحمہ اللہ وبرکاتہ! سوال : نجاست سے تعویذ لکھنا کیسا ہے ؟ اگر جائز تو اس کی دلیل ؟ اور اگر حرام ہےتو اس کے لکھنے والے کا شرعی حکم کیا ہوگا ؟ اگر چہ لکھنے والا عالم ہو یا علم رکھتا ہو، ہمارے واٹس ایپ گروپ میں یہ مسئلہ قریب قریب سات مہینے سے چل رہا ہے، جس کا ابھی تک تشفی بخش جواب نہیں مل سکا، جس پر میں نے حسن ظن کےساتھ خاموشی اختیار کر لی،اب آپ ہی اس مسئلے کا جواب مدلل عطافرما ئیں، اس پر تسلی بخش براہ کرم دلیل کے ساتھ جواب بھی مرحمت فرمادیں کیونکہ ذہن میں تشویش آج تک باقی ہے، بڑا ممنون ہوں گا، فقط والسلام۔
واضح ہو کہ نفس حروف کا بھی شریعت میں احترام لازم ہے ،جبکہ قرآنی آیات کا تو بہر حال احترام فرض ہے، لہذا نجاست جیسے خون و پیشاب وغیر ہ سے تعویذ لکھنا جائز نہیں ،جن سے احتراز لازم ہے۔
كما في الفتاوى الهندية : إذا كتب اسم فرعون أو كتب أبو جهل على غرض يكره أن يرموا إليه ؛ لأن لتلك الحروف حرمة، كذا في السراجية الخ (5/323)
موبائل میں گانے بھرے ہوئے ہوں تو اس میں تلاوت بھروا سکتے ہیں یا نہیں؟
یونیکوڈ قرآن و حدیث کے آداب و احکام 0